’اسامہ کی پیشکش نامنظور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے رکن ممالک نے اسامہ بن لادن کے آڈیو ٹیپ میں یورپی ممالک کے ساتھ القاعدہ سے کسی بھی قسم کے ممکنہ امن مذاکرات کی تجویز کو یکسر رد کر دیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے یہ رد عمل اسامہ کے اُس ٹیپ کے جواب میں سامنے آیا جس میں بن لادن نے کہا تھا کہ یورپی ممالک کے ساتھ القاعدہ امن کے سلسلے میں مذاکرات پر تیار ہو سکتی ہے بشرطیکہ ان میں واشنگٹن کو شامل نہ کیا جائے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے جرمنی کی حکومت کا موقف اختیار کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کی اس پیشکش پر کہا کہ فرانس کے لیے دہشت گردوں سے مذاکرات کرنا نہ ممکن ہے۔ اسی ٹیپ پر برطانوی حکومت نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ پیش کش سچ پر مبنی بھی ہے تو اس کے ذریعے امریکہ اور یورپ کو جُدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘۔ اطالوی وزیر خارجہ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں کہ اسامہ بن لادن کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات ہو سکتے ہیں جبکہ اسی ٹیپ والی پیشکش پر سپین کے نئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسی تجاویز کو نظرانداز کردینا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||