| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی اتحاد کا آئین، روم میں مذاکرات
پچیس یورپی ممالک کے سربراہان یورپی اتحاد کے پہلے آئین کی تشکیل کے سلسلے میں پائے جانے والے اختلافات ختم کرنے کے لیے روم میں ملاقات کر رہے ہیں۔ آئین کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس میں یہ تجاویز بھی شامل ہیں کہ آئندہ مئی میں دس نئے ممالک کے پندرہ رکنی حالیہ اتحاد میں شامل ہونے کے بعد اس تنظیم کا نظام کس طرح چلایا جائے گا۔ توقع ہے کہ آئین کا مسودہ منظور کر لیا جائے گا لیکن سربراہان کے مابین اس بات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں کہ یورپی اتحاد میں کون کون سے ممالک زیادہ بااختیار اور بااثر ہوں گے۔ بعض چھوٹے ممالک کو خدشہ ہے کہ ان کی آواز دب کر رہ جائے گی اس لیے وہ چند تجاویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے میزبان ملک اٹلی کی خواہش ہے کہ حالیہ برس کے اختتام سے پہلے باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے ہونے والی گفت و شنید ختم ہو جائے کیونکہ اٹلی اس سال کے آخر میں یورپی اتحاد کی صدارت سنبھالنے والا ہے۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت آئندہ برس بھی اس لیے جاری رہے گی کہ ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کی بھرپور کوششیں کرے گا۔
سابق فرانسیسی صدر کی قیادت میں سولہ ماہ جاری رہنے والی بحث کے بعد نئے آئین کا مسودہ جون میں پیش کیا گیا تھا۔ مسودے میں جو اہم ترامیم کی گئیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں: * حکوتوں کے پاس ویٹو کے استعمال کا اختیار کم ہو گا۔ * یورپی پارلیمان زیادہ اختیارات کی حامل ہو گی۔ * ایک وزیر خارجہ بھی مقرر کیا جائے گا۔ * یورپی اتحاد کے فیصلہ ساز ادارے ’یورپی کمیشن‘ کے ارکان کی تعداد کچھ کم کر دی جائے گی۔ یورپی اتحاد کے چھ بانی ممالک جن میں اٹلی، جرمنی، فرانس، ہالینڈ، بیلجیئم اور لکسمبرگ نیز برطانیہ اور ڈنماک، نئے مسودے پر کسی حد تک رضامند ہیں۔ تاہم پولینڈ اور سپین نے ووٹنگ کے طریق کار میں تبدیلیوں پر برہمی دکھائی ہے اور دیگر اراکین نے یورپی کمیشن کے ارکان میں کمی کی تجویز پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی اتحاد کے ارکان میں اس بات پر بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے کہ آیا نئے آئین میں خدا، عیسائیت یا مذہب کا واضح حوالہ دیا جائے یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||