اسامہ بن لادن کی ٹیپ کا اثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکیوں کو یہ یاد دلانے کے لیے اسامہ بن لادن کی ٹیپ کی ضرورت نہیں کہ انہیں انتہاپسندوں سے خطرہ لاحق ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے ہی دہشت گردی مخالف جنگ ان کی زندگی پر حاوی رہی ہے۔ تاہم لگ بھگ ایک سال کے اندر آنے والی اسامہ بن لادن کی پہلی ٹیپ سے ان کے رونگٹے ضرور کھڑے ہوسکتے ہیں کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور حملے کے انتظار میں ہیں۔ اس سے کئی سوال پیدا ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور ملٹری اور انٹیلیجنس سروسز اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں ناکام کیوں ہیں۔ لیکن اس کا فوری سیاسی اثر شاید یہ ہوسکتا ہے کہ صدر جارج بش کی حمایت میں اضافہ ہوجائے گا۔ حالیہ دنوں میں صدر بش پر، جو کہ امریکہ کے کمانڈر اِن چیف بھی ہیں، دباؤ رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف مہم میں شہریوں کے حقوق کی پامالی کررہے ہیں۔ ان کا جواب یہ رہا ہے کہ امریکی قوم حالتِ جنگ میں ہے۔ لہذا اسامہ بن لادن کی نئے حملے کرنے کی دھمکی سے ان کے موقف کی حمایت ہوگی۔
دہشت گردی سے متعلق امور کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اسامہ بن لادن رائے عامہ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ٹیپ کے ذریعے ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو باجوڑ حملے پر حساس سوچ کی گرفت میں ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے پس منظر کا خیال رکھتے ہوئے وہ اپنی ٹیپ میں امریکی عوام سے براہ راست مخاطب ہوتے ہیں: ’آپ لوگوں کی ایک بڑی اکثریت عراق سے امریکی افواج کا انخلاء چاہتی ہے لیکن (بش) نے آپ کی خواہش کی مخالفت کی۔‘ تاہم انسداد دہشت گردی کے سابق امریکی اہلکار رِچرڈ کلارک کا خیال ہے کہ ٹیپ کے ذریعے اسامہ بن لادن امریکیوں سے مخاطب ہونے کے بجائے مسلم اور عرب دنیا میں خود کو ’معقول‘ شخص کی حیثیت سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ رِچرڈ کلارک نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اسامہ بن لادن ’دنیا کی اور امریکہ کی رائے عامہ کے ذہین طالب علم ہیں، اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ امریکی سوچ پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔‘ امریکہ میں انٹیلیجنس کے اہلکار یہ مان کر کام کررہے ہیں کہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں، اگرچہ کافی عرصے سے ان کی آواز نہیں سنی گئی تھی۔ اس لیے ان میں سے شاید ہی کوئی اس ٹیپ پر تعجب کرے گا۔ تاہم انٹیلیجنس کے اہلکار یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ اسامہ بن لادن بھاگتے پھرتے رہے ہیں اور اب شدت پسند منصوبوں کے عسکری منتظم نہ رہے جیسا کہ وہ پہلے ہوا کرتے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلیلن نے کہا کہ اسامہ بن لادن ’دباؤ‘ میں تھے اور دہشت گردی مخالف جنگ کو صرف ان کی شخصیت کے گرد پیوست نہیں کیا جانا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ ٹیپ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے لیکن ان کا ساتھ ہی یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ پر فوری کسی حملے سے متعلق کوئی ’اشارہ‘ نہیں ہے۔ اسامہ بن لادن کے پیغام پر عام امریکی شہریوں کا ردعمل حقیقت مندانہ ہونے کی توقع ہے، کیوں کہ اس طرح کے خطروں کے بارے میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے تجزیے اب عام فہم ہوگئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی پہلے کی اس طرح کی وارننگ کے باوجود گیارہ ستمبر کے بعد پھر سے کوئی امریکہ میں حملہ نہیں ہوا ہے، اگرچہ امریکی حکومت نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ اس نے اس طرح کے کئی شدت پسند منصوبے ناکام بنائے۔ القاعدہ کے رہنما کی وقت پر گہری نظر ہوتی ہے جو اکتوبر دو ہزار چار میں امریکی انتخابات سے کچھ قبل ہی انہوں نے ایک ٹیپ جاری کرکے ثابت کیا تھا۔ ایک وڈیو پیغام میں اسامہ بن لادن نے کہا تھا کہ اگر امریکہ گیارہ ستمبر جیسا ایک اور حملہ نہیں چاہتا تو اسے مسلمانوں کی سکیورٹی کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ اس وڈیو پیغام کو ذرائع ابلاغ میں بڑے پیمانے پر کوریج ملی لیکن اس کا امریکہ میں ووٹنگ پر شاید ہی کوئی اثر مرتب ہوا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ نئی ٹیپ میں جاری کی جانے والی امریکہ پر حملے کی دھمکیوں سے اسامہ بن لادن کو پکڑنے سے متعلق امریکی رائے عامہ میں کیسے تبدیلی آئے گی۔ گزشتہ دسمبر میں رائے شماری کرانے والے ادارے گیلپ نے ایک سروے کرایا تھا جس میں اڑسٹھ فیصد امریکیوں نے کہا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکہ اسامہ بن لادن کو سن دوہزار چھ میں پکڑ پائے گا۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ کو شکست کا سامنا ہے‘09 September, 2004 | آس پاس شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں: ملا عمر25 July, 2005 | آس پاس طعلفر کا انتقام لیں گے: زرقاوی11 September, 2005 | آس پاس الجزیرہ پر’اسامہ بن لادن کی ٹیپ‘19 January, 2006 | آس پاس باجوڑ: ملک گیر احتجاج کی کال14 January, 2006 | پاکستان باجوڑ کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال14 January, 2006 | پاکستان پشاور اور وانا میں احتجاج، مظاہرے20 January, 2006 | پاکستان ’عراق پر حملہ صلیبی جنگ ہے‘21 December, 2003 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||