’کفار کو ہلاک کرنا مذہبی فریضہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولڈ بیلی میں لندن کے متنازعہ پیش امام شیخ ابو حمزہ المصری کے خلاف سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ ابو حمزہ نے اپنے حامیوں کو کہا تھا کہ غیر مسلموں کو ہلاک کرنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ 2004 میں ابو حمزہ کے لندن والے گھر سے ’دہشتگردی کا ایک مینوئل‘ برآمد ہوا تھا جس میں، وکلاء کے دعوٰے کے مطابق، بتایا گیا تھا کہ کس طرح آتشیں اسلحہ تیار کیا جائے، دہشتگردوں کا یونٹ تشکیل دیا جائے اور کن مقامات کو نشانہ بنایا جائے۔ ان مقامات میں ایفل ٹاور اور بگ بین وغیرہ کے نام شامل تھے۔ ان پر نسلی تفرقہ پھیلانے کا الزام بھی ہے۔ ابوحمزہ اپنے اوپر عائد کردہ پندرہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ عدالت میں استغاثہ ڈیوڈ پیری کا کہنا تھا کہ ابو حمزہ نے شراب، بدکاری اور جمہوریت کے خلاف مہم چلا رکھی تھی اور کہتے تھے کہ ’کفار‘ کے خلاف لڑنا اور انہیں ہلاک کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ 47 سالہ مصطفیٰ کمال مصطفیٰ المعروف ابو حمزہ مصر کے شہر سکندریہ کے ایک متوسط خاندان میں میں پیدا ہوئے اور انجینیر بننے کے ارادے سے1979 لندن آئے تھے- یوں تو وہ لندن کی ایک علاقائی مسجد میں مبلغ تھے- تاہم ان کی وجہ شہرت ان کے سخت گیر مذہبی خیالات اور ان کی شعلہ بیانی ہے۔ ڈیوڈ پیری کے مطابق ابو حمزہ کے چند خطبات اور مذاکرات ریکارڈ شدہ ہیں۔ ان کے گھر سے 2700 آڈیو ٹیپ اور 570 وڈیو کیسٹ برآمد ہوچکے ہیں جن میں، استغاثہ کے مطابق قتل اور نفرت انگیزی کی تبلیغ کی گئی ہے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اسلام یا قرآن پاک کے خلاف نہیں ہے۔ ابو حمزہ اپنے خطبات میں یہودیوں سے اپنی مخالفت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودی مغربی دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں اور انہیں اس دنیا سے ختم کردینا چاہیے۔ تاہم پولیس کو اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنی آزادی اظہار کا حق استعمال کررہے تھے۔ | اسی بارے میں ابوحمزہ: ملک بدری کاامکان30.01.2003 | صفحۂ اول شیخ ابوحمزہ برطرف04.02.2003 | صفحۂ اول ابو حمزہ کی واپسی؟30.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||