افغانستان: لڑائی جاری، 100ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دوہزار ایک میں افغانستان میں طالبان کے زوال کے بعد سے ہونے والی اب تک کی شدید ترین لڑائی میں لگ بھگ ایک سو افراد مارے گئے ہیں۔ صوبہ ہلمند میں طالبان کے جنگجو اور اتحادی سکیورٹی افواج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں حکام کے مطابق پچاس شدت پسند اور پولیس کے تیرہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ قندھار میں بھی افغان اور اتحادی افواج نے مزید کارروائیاں کی ہیں اور حکام کے مطابق اس طرح کی دو کارروائیوں میں کم سے کم پچیس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ ہرات میں ایک خودکش بمبار کے حملے میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوگیا ہے۔ ادھر غزنی میں ایک اور خودکش بمبار نے افغان فوج کے اڈے پر ایسے وقت خود کو اڑا دیا جب وہاں سے امریکی فوجیوں کا ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ خودکش بمبار اور ایک سویلین ہلاک ہوگئے۔ صرف اس سال افغانستان میں کم سے کم بیس خود کش حملے ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ سال صرف سترہ اور سن 2004 میں صرف پانچ خودکش حملے ہوئے تھے۔
موجودہ لڑائی کے لیے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے مزاحمت کاروں کے حملے کرنے کے لیے ہمت افزائی کی۔ پاکستان کی سرحد کے قریب کنار میں ایک خطاب کے دوران صدر کرزئی نے کہا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے نوجوان افغانوں کو سکولوں پر حملے کرنے کے لیے اور تعمیراتی کاموں میں مصروف انجینیئروں پر حملے کے لیے تربیت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی کے برعکس اب وہ افغانستان کے مستقبل پر حاوی نہیں ہوسکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے افغانستان کے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کررہی ہے۔ تازہ لڑائی ہلمند میں بدھ کو اس وقت شروع ہوئی جب طالبان جنگجوؤں نے موسیٰ القلعہ کے شہر میں پولیس پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں افغان پولیس کے کم سے کم تیرہ اہلکار اور کم سے کم پچاس طالبان ہلاک ہوگئے۔ ہلمند کے گورنر عامر محمد اخندزادہ نے رائٹرز کو بتایا: ’طالبان کے زوال کے بعد سے یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔‘ افغان پولیس عالمی اتحادی افواج کی مدد سے اب حملہ آوروں کی تلاش میں ہے۔ دریں اثناء، امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے قندھار میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک فوجی کارروائی کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ’سات طالبان ہلاک ہوگئے اور پندرہ سے بیس ایک دوسرے فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ ایک اتحادی فوجی زخمی ہوا۔‘ افغانستان میں تعینات کینیڈا کی فوج نے کہا کہ بدھ کو قندھار میں کی جانے والی ایک کارروائی میں اٹھارہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ اس کارروائی کے دوران کینیڈا کی ایک خاتون فوجی ہلاک ہوگئی۔ دوسری جنگ عظیم کی بعد سے کینیڈا کی یہ پہلی خاتون ہیں جو لڑائی کے دوران ہلاک ہوئی ہیں۔ طالبان نے افغانستان میں موجود افغان اور عالمی اتحادی افواج پر حالیہ مہینوں میں اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ افغانستان میں نوہزار عالمی فوجی تعینات ہیں اور آئندہ نومبر تک یہ تعداد بڑھاکر اکیس ہزار کی جارہی ہے۔ مغربی ملکوں کے فوجی اتحاد نیٹو کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی افواج کو مزاحمت کا سامنا کرنے کی متوقع ہے۔ ’اگرچہ امریکیوں نے وہاں کافی کام کیا ہے تاہم ہلمند، قندھار، اور جنوب کے کئی علاقوں میں لاقانونیت ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’دراندازی کا ذمہ دار پاکستان ہے‘17 May, 2006 | آس پاس افغانستان: مشتبہ حملہ آور ہلاک17 May, 2006 | آس پاس پاکستان، افغانستان بس سروس کا آغاز15 March, 2006 | پاکستان حملے کا خدشہ، سکیورٹی میں اضافہ14 March, 2006 | پاکستان پاکستانیوں کی ہلاکت پر احتجاج23 March, 2006 | پاکستان ’رنجش، پاکستانیوں کی وجۂ ہلاکت‘31 March, 2006 | پاکستان پاک، افغان، امریکہ مشقیں مکمل12 May, 2006 | پاکستان ’قتل میں آئی ایس آئی ملوث نہیں‘14 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||