افغانستان کا با اثر ہمسایہ بھارت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ افغانستان کے سنیما گھروں میں جانا چاہتے ہیں تو اس کے لیئے ضروری ہے کہ آب بالی وڈ فلموں کے مداح ہوں۔ بھارت سے یہاں ایکسپورٹ ہونے والی اور دیگر ذرائع سے آنے والی فلموں کے انبار لگے ہیں۔ یہاں کے لوگ بھارتی ثقافت سے کافی متاثر ہیں اور اب بھارتی پیسہ بھی ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ کابل میں بھارتی سفارتکار سندیپ کمار کا کہنا ہے کہ ’ہم نے افغانستان کے ڈھانچے، ٹیلی کام، صحت، انسانی بنیادوں پر امداد اور اداروں کے لیئے 600 ملین ڈالر دینے کا عہد کیا ہے۔‘ ’ہم توانائی کے شعبے میں 110 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کررہے ہیں۔ ہم نے تین ایئر بسیں (طیارے) افغانستان کو دیے ہیں اور 218 کلومیٹر لمبی سڑک کی تعمیر پر کام کررہے ہیں۔‘ دیگر ممالک سے اور بھارت کی جانب سے رقم کی پپیشکش میں فرق یہ ہے کہ بھارت کی دی ہوئی رقم درحقیقت افغانستان میں استعمال کی جارہی ہے۔ کابل میں ’حبیبہ ہائی سکول‘ کا بورڈ دور سے ہی دیکھا جاسکتا ہے جو طالب علموں سے بھرا ہوا ہے۔ بورڈ پر سکول کے لیئے عطیہ دینے والے ملک کا نام بھی ایک کونے میں درج ہے: ’گورنمنٹ آف انڈیا۔‘ سکول کے ٹیچر غفور مرزا بھارتی حکومت سے خوش ہیں جس نے اس مشہور سکول کی تعمیر نو اور بحالی کو ممکن بنایا۔ اس سکول سے ملک کے تین صدور اور ایک شاہ تعلیم حاصل کرچکے ہیں تاہم سالہا سال جاری مسلح لڑائی کے بعد یہ صرف ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت میں تبدیل ہوگیا تھا۔ غفور مرزا کے مطابق بھارت نے نہ صرف اس کی تعمیر نو میں مدد کی بلکہ بجلی، پانی سے لے کر کتابیں اور فرنیچر تک فراہم کیا ہے۔
’بھارت نے ایک بھائی کی طرح افغانستان کی مدد کی ہے۔‘ کابل کی طویل ترین سڑک کے اختتام پر ملک کا پرانا صدارتی محل ٹوٹی پھوٹی شکل میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی واقع زمین کے ٹکڑے پر بھارتی حکومت افغان پارلیمان تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت یہ سب کیوں کررہا ہے؟ کیا اس کا افغان اقتدار سے کوئی مفاد وابستہ ہے یا محض تعمیری سوچ؟ تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت اور افغانستان ہمیشہ سے ہی قریبی دوست رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب کچھ افغانستان کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہو وہ بھی ایک ایسے وقت پر جب پرانے دشمن پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات برے دور سے گزر رہے ہیں۔ افغانستان کے سیاسی سائنسدان وزیر سیفی کہتے ہیں بھارت افغان تعلقات پر پاکستان خوش نہیں ہے۔ بھارت کے دو ہمسایہ چین اور پاکستان دونوں ہی بھارت کے ساتھ دوستانہ نہیں ہیں۔ ’یہی وجہ ہے کہ بھارت وسطح ایشیا تک رسائی کے لیئے افغانستان سے تعلقات بڑھا رہا ہے۔‘ دوسری جانب ملک کے قدرتی وسائل تیل، گیس اور معدنیات بھی بھارت کے لیئے بہت کارآمد ہوسکتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ پاکستان کے دورے کے برعکس صدر کرزئی کا بھارت کا حالیہ دورہ کافی خوشگوار ثابت ہوا ہے۔ اس دورے میں جہاں بھارت کشمیر میں مبینہ دراندازی کی بات کرے گا وہیں افغانستان سرحد پار سے مبینہ شدت پسندانہ کارروائیوں کے دکھڑے روئے گا۔ | اسی بارے میں افغانستان: دو بم دھماکے، 11 زخمی09 April, 2006 | آس پاس افغانستان:4 امریکی فوجی ہلاک12 March, 2006 | آس پاس افغانستان: دھماکے میں 12 افراد ہلاک07 February, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملہ، 10 ہلاک05 January, 2006 | آس پاس افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘09 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||