حملے کا خدشہ، سکیورٹی میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر ان اطلاعات کے بعد سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے کہ سفارتخانے پر ممکنہ حملہ ہو سکتا ہے۔ افغان دارالحکومت کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانے کے باہر ایک سو کے قریب پولیس اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں اور حکام کے مطابق سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایک پاکستانی سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ سفارت خانے پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کچھ عرصے سے دباؤ میں ہیں۔ اتوار کو سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی نے الزام لگایا تھا کہ کابل میں ان پر ہونے والے خود کش حملے میں پاکستان ملوث ہے۔ اس حملے میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ پاکستان اور افغانستان نے حالیہ دنوں میں انٹیلی جینس کے حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف الزام عائد کیئے ہیں اور کہا ہے کہ شدت پسند ان کے علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری نے بتایا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر سکیورٹی میں واضح اضافہ نظر آ رہا ہے۔ ایک مقامی پولیس اہلکار کا کہنا ہے: ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہاں ایک مظاہرے کا امکان ہے اور ہم یہاں اس لیئے آئے ہیں کہ سفارتخانے پر حملہ نہ ہو۔‘ گزشہ دنوں جب امریکی صدر جارج بش نے افغانستان اور پاکستان کا دورہ کیا تھا تو سکیورٹی کا مسئلہ بات چیت کے ایجنڈے پر سرِفہرست تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت سے زیادہ کشیدہ ہوگئے ہیں جب سے صدر حامد کرزئی نے اپنے پاکستانی ہم منصب پرویز مشرف کو ان شدت پسندوں کی ایک فہرست دی تھی جو افغان صدر کے بقول پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پاکستانی صدر کا کہنا ہے کہ یہ فہرست پرانی ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ | اسی بارے میں کابل میں سفارت خانہ بند08.07.2003 | صفحۂ اول سفارتخانے پر حملہ، مزید چار گرفتار17.07.2003 | صفحۂ اول کابل سفارتخانہ آج کھلےگا20.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||