پاک، افغان، امریکہ مشقیں مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، امریکہ اور افغانستان کی افواج کی پہلی مشترکہ فوجی مشقیں جمعہ کو پاکستان کے صوبہ سرحد کی ایک فوجی بیس اور کمانڈو ٹریننگ سینٹر چراٹ پر دس روز جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئیں۔ ان مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر طالبان اور مبینہ شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنا اور آپس میں بہتر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ’انسپائرڈ گیمبٹ‘ یا تخلیقی پینترہ نامی ان مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ گذشتہ ماہ اسلام آباد میں سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ ان مشقوں میں فوجی ذرائع کے مطابق تینوں ممالک کے پانچ سو سے زائد فوجیوں نے حصہ لیا۔ان مشقوں کے دوران فوجیوں نے چراٹ سے لے کر قبائلی علاقے وزیرستان کے سرحدی علاقوں تک مختلف کارروائیوں کی مشق کی۔ پاکستانی فوج کے مطابق ان مشقوں میں تینوں ممالک کے فوجیوں نے فضائی حملوں، شدت پسندوں کے خلاف خصوصی آپریشن اور دن اور رات کے دوران کارروائیوں کی مشق کی۔ ان مشقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق شدید گرم موسم میں ایسی مشقوں میں فوجیوں نے سخت محنت کی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مشترکہ مشقوں میں تینوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کی زبان سمجھنے میں مدد ملی اور فوجی کارروائیوں کی حکمت عملی کا بھی پتہ چلا جو مستقبل میں نہایت مفید ثابت ہو گا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے پاکستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج اور سرحد پار اتحادی فوج کے خلاف شورش بدستور جاری ہے۔ افغانستان کی حکومت ماضی میں پاکستان پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ پاکستان سرحد سے شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنے میں موثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ستر ہزار سے زائد پاکستانی فوج افغانستان سے ملحقہ سرحد پر تعینات ہے اور افغانستان میں موجود افغانی فوج اور اتحادی افواج اس سرحد پار آمد و رفت کو روک نہیں پا رہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چند ماہ میں اس مسئلے پر تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جن کو معمول پر لانے کے لیئے سہ فریقی کمیشن کے دو اجلاس منعقد ہوئے ہیں اور یہ مشترکہ مشقیں بھی اسی سلسلے کی ایک پاکستانی فوج کے نائب سربراہ جنرل احسن سلیم حیات نے جمعرات کو چراٹ کا دورہ کیا تھااور فوجی مشقیں دیکھی تھیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ایسی مشترکہ مشقوں سے تینوں ممالک کو دہشت گردی خلاف جنگ میں مدد ملے گی اور تینوں ممالک کے آپس میں تعاون کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ | اسی بارے میں افغانستان: 10 امریکی ہلاک06 May, 2006 | آس پاس القاعدہ کے جھنڈے تلے لڑنے کا اعلان 04 May, 2006 | آس پاس افغانستان میں بھارتی انجینیئر قتل30 April, 2006 | آس پاس طالبان: زابل میں مسلح جھڑپیں 16 April, 2006 | آس پاس قندھار میں طالبان کی تلاش جاری15 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||