طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ:برطانوی افسر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی فوج کے ایک سینیئر اہلکار نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ افغانستان میں حملوں کے لیے طالبان کو اپنی سرزمین’ہیڈکوارٹر‘ کے طور پر استعمال کرنے دے رہا ہے۔ لندن کے اخبار گارڈین میں جمعہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں برطانوی اہلکار کرنل کرِس ویرنن نے کہا کہ طالبان کی قیادت سرحدی شہر کوئٹہ سے اپنی کارروائیاں پلان کررہی ہے۔ کرنل ویرنن جنوبی افغانستان میں تعینات برطانوی فوج کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ ایک ’اہم ہیڈکوارٹر‘ ہے جہاں سے طالبان ’افغانستان میں اپنا نیٹ ورک چلارہے ہیں۔‘ برطانوی آفیسر کے مطابق کوئٹہ سے طالبان کی قیادت ’لگ بھگ 25‘ کمانڈروں کو کنٹرول کررہی ہے جو جنوبی افغانستان میں سرگرم ہیں۔ اسلام آباد میں موجود ایک برطانوی سفارت کار نے گارڈین کو بتایا: ’یہ واضح ہے کہ طالبان بے لگام ہیں۔۔۔۔ (تاہم) اس طرح کے شواہد نہیں ہیں کہ طالبان کے نیٹ ورک (پاکستان میں) ہیں لیکن ان کے لیے افغان پناہ گزیں کمیپوں میں پناہ اختیار کرلینا آسان بات ہے۔‘ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس طرح کے تمام الزامات کی تردید کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کو افغان حکومت کے خلاف حملوں کو اکسانے کی کوئی کوشش ہے۔ | اسی بارے میں طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان افغانستان: لڑائی جاری، 100ہلاک18 May, 2006 | آس پاس ’الزامات کرزئی کے ذہن کی اختراع ہیں‘19 May, 2006 | پاکستان افغانستان: مشتبہ حملہ آور ہلاک17 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||