باجوڑ: منگل کو یوم احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ ایجنسی میں مدرسے پر حملے پر پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور دینی مدارس کے عہدیداروں نے شدیدردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے فوری طور پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وزیرستان اور باجوڑ ایجنسی اور بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کردیے جائیں۔ ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد نے منگل کو ملک بھر میں ان ہلاکتوں کے خلاف یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے اور بتایا کہ وہ چار نومبر سے شروع ہونے والے جماعتِ اسلامی کے شوریٰ کے اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک پر غور کریں گے۔ ان کے بقول اس کا اعلان متحدہ مجلس عمل کے نو نومبر کے اجلاس میں ہوگا۔ قاضی حسین احمد نے ایک نیوز بریفنگ میں نے کہا کہ حملہ ایک مدرسہ ضیاءالعلوم تعلیم القرآن پر ہوا جس میں مارے جانے والے پاکستانی ہیں۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ مارے جانے والوں کے گوشت کے لوتھڑے بکھرے ہوئے تھے اور لوگوں نے وہ بوریوں میں بھر بھر کر دفن کیے۔ ان کے مطابق بیشتر مارے گئے طالبعلموں کی عمر پندرہ برس سے کم تھی اور باقی ہلاک ہونے والوں میں بھی کوئی پچیس برس سے زائد عمر کا نہیں تھا۔ ان کے مطابق کوئی بھی غیرملکی وہاں نہیں تھا اور یہ مدرسہ انتظامیہ کی دسترس میں تھا اور اگر وہ چاہتے تو وہاں موجود افراد کو گرفتار بھی کرسکتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں اپنی جماعت کے مقامی عہدیداروں اور وہاں کے لوگوں نے بتایا ہے کہ حملہ امریکہ نے کیا ہے۔ تاہم وہ اپنے دعوے کے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت تو پیش نہیں کر پائے لیکن اتنا کہا کہ پہلے بھی امریکہ نے حملہ کیا تھا اور اب بھی انہوں نے کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ فوجی ترجمان خود کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ انہوں نے کیا ہے تو وہ کیسے کہتے ہیں کہ یہ کارروائی امریکہ نے کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب قبائلی عمائدین اور حکومت میں شمالی وزیرستان کی طرز پر معاہدہ طے پایا تو اُسے سبوتاژ کرنے کے لیےامریکہ نے حملہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی فوجی جرنیلوں پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ بزدل ہیں اور الٹا یہ کہہ کر کہ یہ کارروائی انہوں نے کی ہے، وہ فوج کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ مولانا مولانا فضل الرحمان نے اس حملے کو وزیرستان اور باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے امن معاہدوں پر امریکہ کا ردعمل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں کے بعد اب اس طرح کے امن معاہدے سرحد کی دوسری جانب افغانستان میں کیےجانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ طالبان، مقامی لوگ اور مقامی انتظامیہ یہ چاہتیں تھیں کہ اسی طرح کے معاہدے کرکے امن وامان سے رہا جائے جس پر امریکہ خوش نہیں تھا۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں دو روز سے طیارے پرواز کر رہے تھے اور یہ حملہ پاکستانی افواج نے نہیں کیا بلکہ یہ سرحد کے اس پار افغانستان سے کیا گیا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ کے پاکستان کے سیکرٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں طاقت کا اندھا دھند استعمال بہت غلط ہے۔ فوج کے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ’ مدرسے میں مبینہ دہشت گرد موجود تھے ’حنیف جالندھری نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے واضح ہے کہ اس قسم کی اطلاعات بعد میں غلط ثابت ہوتی رہی ہیں اور اس پر نیٹو فوج کے ترجمان ایک بار افسوس کا اظہار بھی کرچکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو تصدیق کے بغیر اس قسم کی بمباری سے اجتناب کرنا چاہیے تھا اور اس کی بجائے وہ مدارس کے ذمہ داروں اور دیگر مقامی افراد سے گفتگو اور رابطہ کرسکتے تھے۔ محمد حنیف جالندھری کے مطابق وفاق المدارس پاکستان العربیہ نوہزار مدرسوں کی ایک نمائندہ تنظیم ہے جس میں چھ لاکھ کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ اپنے طور پر واقعہ کا جائزہ لیں گے جس کے بعد مدارس کے عہدیداروں کے اجلاس میں احتجاج کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سنیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ پاکستان کی حکومت غیروں کی جنگ میں اپنوں کو ایندھن بنا رہی ہے اور یہ سلسلہ کئی برس سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان معاہدے سے حالات بہتر ہونے کی ایک امید نظر آنے لگی تھی اور خیال کیا جارہا تھا کہ اسی نوعیت کا ایک معاہدہ باجوڑ میں ہوجائے گا لیکن اس کے بجائے خوں ریزی شروع کر دی گئی۔ سنیٹر ساجد میر نے کہا کہ ان علاقوں کے لوگ پہلے ہی پاکستان سے دور ہو رہے تھے اب وہ مزید دور ہوجائیں گے۔ انہوں نے باجوڑ ایجنسی کے خلاف مذہبی اور دینی جماعتوں کے احتجاج میں بھر پور شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر نے کہا کہ پاکستان کے مدرسوں میں کوئی دہشت گرد ہے نہ کسی کو دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔
قاری زوار بہادر نے کہا کہ حکومت کبھی مذاکرات کرتی ہے اور امن معاہدے کرتی ہے تو کبھی بمباری شروع کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی رویہ برقرار رہا تو امن کا امکان باقی نہیں رہے گا انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنا مذاکرات والے ایجنڈے پر قائم رہنا چاہیے اسی میں ملک و قوم کا فائدہ ہے۔ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ دراصل امریکہ کو وزیرستان اور پھر باجوڑ میں پاکستان فوج سے ہونے والے امن معاہدوں کا معاملہ پسند نہیں آیا اسی لیے ایک سازش کے تحت ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جن سے ملک میں حالات خراب رہیں اور ان علاقوں میں افراتفری کی کیفیت رہے اور پھر انہی کو بنیاد بنا کر امریکہ کو براہ راست مداخلت کا موقع مل سکے۔ فوجی ترجمان شوکت سلطان اور قاصی حسین احمد کے موقف میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں تو اتفاق پایا جاتا ہے لیکن وہاں غیر ملکیوں کی موجودگی اور کارروائی پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے پر ان کے موقف میں واضح تضاد ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان شوکت سلطان نے نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا وہاں غیر ملکی بھی موجود تھے اور یہ کارروائی پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے کی ہے۔ تاہم انہوں نے غیر ملکیوں کی شناخت کے بارے میں کہا کہ فی الحال انہیں معلومات نہیں ملی۔ | اسی بارے میں مدرسے پر فوج کی بمباری، ’80 افراد ہلاک‘30 October, 2006 | پاکستان حملہ امریکہ نےکیا: ارکان اسمبلی30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: سرکاری اہلکار پر بم حملہ28 September, 2006 | پاکستان باجوڑ: سرنگ پھٹنے سے دو بچے ہلاک13 May, 2006 | پاکستان باجوڑ دھماکے میں تین افراد زخمی19 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||