مدرسے پر فوج کی بمباری، ’80 افراد ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کی صبح ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کی بمباری میں لگ بھگ ’80 افراد‘ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کئی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پشاور سے باجوڑ کے لیے روانہ ہونے والے ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے اطلاع دی ہے کہ باجوڑ۔پشاور روڈ پر باجوڑ ایجنسی میں نواگئی چیک پوسٹ پر فوج کے اہلکار مسافروں سے پوچھ گچھ کررہے ہیں اور صحافیوں کو ایجنسی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ ’ہمیں مصدقہ انٹیلیجنس کی اطلاعات ملی ہیں جن کے مطابق ستر سے اسی شدت پسند مدرسے میں پناہ لیے ہوئے تھے جسے دہشت گردوں کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ مدرسہ فوجی حملے میں تباہ ہوگیا ہے۔‘ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شوکت سلطان نے بتایا کہ فوج کے پاس ’اپنے اعداد و شمار نہیں ہیں کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے تاہم مقامی ذرائع سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ 80 افراد ہلاک ہوئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے پاس ’ٹھوس شواہد‘ تھے کہ مدرسے میں ’شدت پسند‘ موجود ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے فوج نے کارروائی کی۔ شوکت سلطان نے بتایا کہ مدرسے میں ’مقامی اور غیرملکی‘ افراد موجود تھے جن کی عمریں ’بیس سے تیس‘ کے درمیان تھی لیکن ہلاک ہونے والوں میں کوئی ’اہم غیرملکی شخصیت‘ نہیں ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں بچوں کے علاوہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نائب امیر مولانا لیاقت بھی شامل ہیں۔ ابراہیم کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کا جنازہ سینیئر صوبائی وزیر سراج الحق نے پڑھائی۔ یہ واقعہ پیر کی صبح باجوڑ کے صدر مقام خار کے شمال میں بارہ کلومیٹر دور انعام خورد چینگئی کے علاقے میں پیش آیا جہاں سے افغان سرحد پندرہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ادھرعینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اچانک دو طیارے آج صبح فضا میں نمودار ہوئے اور مولانا لیاقت کے نام سے مشہور مدرسے پر بمباری شروع کردی۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ طیاروں نے تین بار مدرسے کو نشانہ بنایا اور یہ حملے اتنے شدید تھے کہ دھماکوں کی آوازیں کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔ ایک عینی شاہد جاوید نے بتایا کہ حملے کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں نمودار ہوئے تاہم ان کی جانب سے بمباری نہیں کی گئی۔ وہ کئی گھنٹوں تک فضا میں گھومتے رہے۔ ادھر اس حملے کے بعد باجوڑ کے صدرمقام خار میں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلسے میں باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید نے اس واقعے کے خلاف اپنے نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ صوبہ سرحد کے سینیئر وزیر سراج الحق نے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مدرسے میں حملے کے وقت 80 طالب علم موجود تھے جنہوں نے عید کی چھٹیوں کے بعد تعلیم کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ موقع پر موجود لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے کے بعد انسانی جسم کے ٹکڑے ہر طرف پھیل گئے۔ ’ہم نے جو کچھ دیکھا اس سے ہمیں دکھ ہوا ہے‘۔ سنیچر کو ایک جلسے میں جس میں ہزاروں افراد شریک تھے مقامی جنگجؤوں نے اسامہ بِن لادن اور ملا محمد عمر کو اپنا ہیرو قرار دیا۔ جنگجؤوں نے حکومت کو افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں امن کے قیام میں اپنی مدد کی پیشکش بھی کی تھی۔ اسی سال جنوری میں امریکہ نے باجوڑ میں تین گھروں پر بمباری کر کے تیرہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ حملہ اس اطلاع پر کیا گیا تھا کہ ان مکانوں میں القاعدہ رہنما ایمن الزواہری موجود تھے۔ پاکستان نے اس حملے پر امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی حکام نے خیر سگالی کے لیے ایسے نو قبائلیوں کو رہا کیا تھا جن پر طالبان سے روابط کا شبہہ تھا۔ ان میں مفرور جنگجو فقیر محمد کے رشتہ دار بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں ’مدرسے پر حملہ، درجنوں ہلاک‘ 30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا21 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: سرکاری اہلکار پر بم حملہ28 September, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان باجوڑ دھماکے میں تین افراد زخمی19 September, 2006 | پاکستان پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ05 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||