BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈمہ ڈولہ کی آسیہ: ’میری آنکھ میں چھرے لگے‘

آسیہ کی آنکھ میں گولیاں لگیں
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں اس سال جنوری میں امریکی بمباری سے تیرہ افراد کی ہلاکت کا واقعہ دنیا شاید وقت گزرنے کے ساتھ بھول جائے لیکن تیرہ سالہ آسیہ اسے تمام عمر نہیں بھلا پائے گی۔

افغانستان کی سرحد سے ملحق اس پہاڑی گاؤں ڈمہ ڈولہ کے تین مکانات میں اس سال تیرہ جنوری کی رات امریکی بمباری کے وقت تیرہ سالہ آسیہ بھی موجود تھی۔ وہ ان تیرہ میں تو نہیں تھی جو ہلاک ہوئے تاہم ان تین میں ضرور تھی جو زخمی ہوئے۔

اُس واقعے کے پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی یہ لڑکی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ اُس کے اب تک ہڈیوں اور آنکھوں کے نو آپریشن ہوچکے ہیں اور شاید مزید کی بھی ضرورت پڑے۔ وہ ایک آنکھ کھو چکی ہے جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دوسری سے بھی شاید وہ واضح طور پر نہ دیکھ سکے۔

اس کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس کے علاج کے لیئے صرف پانچ ہزار روپے دیے اور بس۔ البتہ اب پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں آسیہ کے علاج کا خرچہ عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس برداشت کر رہی ہے۔

 میری آنکھ میں چھرے لگے۔ اب پانچ ماہ سے ہسپتال میں ہوں۔ میں چاہتی ہوں جلد گھر چلی جاؤں اور میری آنکھیں ٹھیک ہوجائیں۔ یہ میرا ارمان ہے۔ بس گھر یاد آتا ہے۔
آسیہ
ہسپتال میں آسیہ سے پوچھا کہ اس کے ساتھ جو ہوا اسے وہ کس نظر سے دیکھتی ہے تو اس کا کہنا تھا: ’بہت ظلم ہوا، بہت بڑا ظلم ہوا۔ بے گناہ مارا گیا ہمیں۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ بمباری ہو رہی ہے۔ ہم تو سمجھے کہ زلزلہ آیا ہے۔ ہم باہر نکلے تو مکان گر چکا تھا۔‘

’میری آنکھ میں چھرے لگے۔ اب پانچ ماہ سے ہسپتال میں ہوں۔ میں چاہتی ہوں جلد گھر چلی جاؤں اور میری آنکھیں ٹھیک ہوجائیں۔ یہ میرا ارمان ہے۔ بس گھر یاد آتا ہے۔‘

آسیہ کی آنکھوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر مصطفی اقبال سے ان کی حالت دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ آسیہ کی ایک آنکھ نکال دی گئی ہے اور اس کی جگہ اب صرف پلاسٹک کی نقلی آنکھ ہی لگ سکتی ہے تاہم وہ اس سے دیکھ نہیں پائے گی۔

دوسری آنکھ میں لوہے کی چھوٹی سی پتری لگی تھی جسے نکال دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اس کا نیا لینس لگایا جائے گا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے اس سے وہ دیکھ پائے گی۔ آنکھوں کے علاوہ آسیہ کا ماتھا، سینہ اور ٹانگیں بھی بمباری سے متاثر ہوئی تھیں۔

آسیہ کو ہسپتال میں پانچ ماہ ہوگئے
آسیہ کے رشتہ دار اخونزادہ سے دریافت کیا کہ آیا حکومت پاکستان یا امریکہ نے علاج کے لیئے کوئی مدد کی تو ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ کے صدر مقام خار کے ہسپتال میں حکام نے انہیں پانچ ہزار روپے دیے اور کچھ نہیں۔ اس کے رشتہ داروں کو جو ہلاک ہونے والوں کی امدادی رقم ملی وہ مکان کی دوبارہ تعمیر پر ہی خرچ ہوچکی ہے۔ ’اس پانچ ہزار کے بعد نہ کوئی رابطہ ہوا اور نہ امداد۔‘

اخونزادہ نے مزید بتایا کہ پشاور میں امریکی پرنسپل افسر مائیکل سپرنگلر نے بھی ان سے لڑکی کو علاج کے لیئے بیرون ملک لے جانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے امریکہ سے اس واقعہ پر معافی کا مطالبہ بھی کیا۔ ’بمباری سے پہلے انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ اس گھر میں بچے بھی ہونگے اور عورتیں بھی، وہ تو بےگناہ ہیں۔‘

باجوڑ میں عموما پانچ چھ سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ناخواندہ آسیہ کی بھی ہوچکی ہے۔ تاہم اس کے رشتہ داروں کو خدشہ ہے کہ ایسی لڑکی کے ساتھ شاید اب کوئی رشتہ برقرار نہ رکھنا چاہے۔

ڈمہ ڈولا پر بمباری سے امریکہ کو کچھ حاصل ہوا کہ نہیں یہ آج تک واضح نہیں ہوسکا تاہم اس واقعے نے اپنے پیچھے کئی داستانیں چھوڑی ہیں جن میں سے ایک آسیہ کی بھی ہے۔

قبائلیباجوڑ پر حملہ
امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ہیں:ہارون
باجوڑ: خوش آمدید
ایمن الظواہری آئیں تو فخر ہوگا: مُلا فقیر محمد
باجوڑ سے براہِ راست
حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا: رحیم اللہ
اسی بارے میں
حملے کا سبب کھانے کی دعوت
16 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد