’امریکی حملے، کابل میں بات‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام قبائلی علاقوں میں افغانستان کی سرحد سے کیے گئے راکٹ حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا معاملہ اس ماہ کی پندرہ تاریخ کو کابل میں پاکستان،افغانستان اورامریکہ پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے سامنے اٹھائے گا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے سنیچر کی شام کو شمالی وزیرستان میں امریکی فوج کی طرف سے داغے جانے والے راکٹ حملے ، کے رد عمل میں کہا ہے کہ ایسے واقعات کے بارے میں پاکستان نے امریکی حکام کے سامنے ان حملوں کے بارے میں بات کی ہے اور اس ماہ ہونے والے سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں بھی اس مسئلے پر بات ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان سے داغا جانے والا یہ راکٹ شمالی وزیرستان میں پاکستان کی سرحد کے اندر خانہ بدوشوں کے ایک خیمے پر گرا جس میں دو خانہ بدوش خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔ سنیچر کی شام کو پیش آنے والے اس واقعہ میں چار بچے بھی زخمی ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں میں امریکی حملے سے شہریوں کی ہلاکت کا اس سال یہ تیسرا واقعہ ہے۔ پاکستانی حکومت امریکی فوج کے حملے میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے گزشتہ دو واقعات پر امریکی حکومت سے احتجاج کر چکی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک ہفتے کے دوران پیش آنے والے ان دو واقعات میں چھبیس پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کے روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ باجوڑ میں امریکی فوجی حملے میں القاعدہ تنظیم کے رہنما ایمن الظواہری کے قریبی رشتہ دار ہلاک ہو گئے تھے۔ باجوڑ میں امریکی حملے میں اٹھارہ شہریوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں امریکی حملہ، 2 عورتیں ہلاک13 February, 2006 | پاکستان طالبان حملہ: آٹھ افغان فوجی ہلاک10 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||