BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 July, 2006, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر

جنوری میں باجوڑ میں امریکی بمباری میں کئی افراد ہلاک ہوئے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب ملا فقیر محمد کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے ایک بار پھر انہیں گرفتار کرنے کی غرض سے ان کے مکان پر چھاپہ مارا ہے تاہم معمولی جھڑپ کے بعد سیکورٹی فورسز واپس لوٹ گئیں۔

فقیر محمد کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیئے آج بھی تیار ہیں تاہم حکومت نے اس سلسلے میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

حکومت کو غیرملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب ملا فقیر محمد کے بقول باجوڑ ایجنسی کے ماموند علاقے میں ان کے مکان پر چھاپہ مقامی انتظامیہ نے لیویز پولیس کی مدد سے بدھ کے دو پہر مارا۔

اس دوران چار پانچ دستی بم بھی پھینکے گئے لیکن اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی قبائلیوں کی مزاحمت کے بعد سرکاری اہلکار وہاں سے چلے گئے۔

القاعدہ سے تعلق؟
 القاعدہ کا تمام مسلمانوں سے تعلق ہے۔ اس میں صرف بش، بلئیر اور مشرف نہیں ہوں گے، باقی تمام دنیا ہوگی۔
ملا فقیر محمد
بعد میں بی بی سی سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے گزشتہ تقریبا ڈیڑھ برس سے روپوش ملا فقیر محمد کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی واضع کرچکے ہیں کہ وہ دفاع کا حق رکھتے ہیں تاہم وہ صبر سے کام لے رہے ہیں۔

’پہلے بھی صبر کیا اور اب بھی کر رہا ہوں لیکن حکومت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چاہتی ہے کہ یہ صبر ختم ہوجائے۔ حکومت نے پہلے بھی غلطی کی تھی اب بھی کی ہے۔‘ ملا فقیر کا اشارہ اس سے قبل ایک کارروائی میں حکومت کی جانب سے ان کا مکان مسمار کرنے کی جانب تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت ان پر القاعدہ اور طالبان کے ساتھ تعلق ہونے کا الزام لگاتی ہے تو انہوں کہا کہ ’القاعدہ کا تمام مسلمانوں سے تعلق ہے۔ اس میں صرف بش، بلئیر اور مشرف نہیں ہوں گے، باقی تمام دنیا ہوگی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور طالبان کے لیے ملا محمد عمر جیسے مضبوط ایمان کے لوگ چاہیے۔ ’میں تو بڑے ضعیف ایمان کا آدمی ہوں۔‘

ملا فقیر محمد کون؟
 مُلا فقیر محمد کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے ایک اہم رہنما ہیں اور غیرملکیوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ ان کے ایک بھائی افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ امریکیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کے دوسرے بھائی حکومت کی قید میں ہیں۔

ان سے دریافت کیا کہ اس طرح کے القاعدہ حامی بیانات سے تو حکومت ناراض ہوگی ان کا کہنا تھا کہ وہ کس طرح ان کی وجہ سے دس بارہ افراد کی ’شہادت‘ اور مکانات کے مسمار ہونے کے بعد ’بےغیرتی کی بات کروں۔ دنیا مجھے ملامت کرے گی۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ وہ زندہ اپنے آپ کو حکومت کے حوالے نہیں کریں گے تاہم مذاکرات اور جرگے کے لیے وہ تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ حکومت نے ہی اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ’یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ باجوڑ کو باجوڑ ہی رکھنا چاہتی ہے یا پھر اسے وزیرستان بنانا چاہتی ہے۔‘

گزشتہ جنوری میں باجوڑ ایجنسی کے گاؤں ڈمہ ڈولا میں امریکی حملے کا اصل نشانہ مُلا فقیر محمد کا گھر تھا لیکن نشانہ خطا گیا اور وہ بچ گئے۔

مُلا فقیر محمد کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے ایک اہم رہنما ہیں اور غیرملکیوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ ان کے ایک بھائی افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ امریکیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کے دوسرے بھائی حکومت کی قید میں ہیں۔

اس سے قبل بھی اطلاعات تھیں کہ ڈمہ ڈولا میں ان کے مکان پر چھاپہ پڑ چکا ہے جس کے دوران وہاں سے ایک ازبک باشندے کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد