باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب ملا فقیر محمد کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے ایک بار پھر انہیں گرفتار کرنے کی غرض سے ان کے مکان پر چھاپہ مارا ہے تاہم معمولی جھڑپ کے بعد سیکورٹی فورسز واپس لوٹ گئیں۔ فقیر محمد کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیئے آج بھی تیار ہیں تاہم حکومت نے اس سلسلے میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ حکومت کو غیرملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب ملا فقیر محمد کے بقول باجوڑ ایجنسی کے ماموند علاقے میں ان کے مکان پر چھاپہ مقامی انتظامیہ نے لیویز پولیس کی مدد سے بدھ کے دو پہر مارا۔ اس دوران چار پانچ دستی بم بھی پھینکے گئے لیکن اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی قبائلیوں کی مزاحمت کے بعد سرکاری اہلکار وہاں سے چلے گئے۔
’پہلے بھی صبر کیا اور اب بھی کر رہا ہوں لیکن حکومت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چاہتی ہے کہ یہ صبر ختم ہوجائے۔ حکومت نے پہلے بھی غلطی کی تھی اب بھی کی ہے۔‘ ملا فقیر کا اشارہ اس سے قبل ایک کارروائی میں حکومت کی جانب سے ان کا مکان مسمار کرنے کی جانب تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت ان پر القاعدہ اور طالبان کے ساتھ تعلق ہونے کا الزام لگاتی ہے تو انہوں کہا کہ ’القاعدہ کا تمام مسلمانوں سے تعلق ہے۔ اس میں صرف بش، بلئیر اور مشرف نہیں ہوں گے، باقی تمام دنیا ہوگی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور طالبان کے لیے ملا محمد عمر جیسے مضبوط ایمان کے لوگ چاہیے۔ ’میں تو بڑے ضعیف ایمان کا آدمی ہوں۔‘
ان سے دریافت کیا کہ اس طرح کے القاعدہ حامی بیانات سے تو حکومت ناراض ہوگی ان کا کہنا تھا کہ وہ کس طرح ان کی وجہ سے دس بارہ افراد کی ’شہادت‘ اور مکانات کے مسمار ہونے کے بعد ’بےغیرتی کی بات کروں۔ دنیا مجھے ملامت کرے گی۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ وہ زندہ اپنے آپ کو حکومت کے حوالے نہیں کریں گے تاہم مذاکرات اور جرگے کے لیے وہ تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ حکومت نے ہی اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ’یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ باجوڑ کو باجوڑ ہی رکھنا چاہتی ہے یا پھر اسے وزیرستان بنانا چاہتی ہے۔‘ گزشتہ جنوری میں باجوڑ ایجنسی کے گاؤں ڈمہ ڈولا میں امریکی حملے کا اصل نشانہ مُلا فقیر محمد کا گھر تھا لیکن نشانہ خطا گیا اور وہ بچ گئے۔ مُلا فقیر محمد کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے ایک اہم رہنما ہیں اور غیرملکیوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ ان کے ایک بھائی افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ امریکیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کے دوسرے بھائی حکومت کی قید میں ہیں۔ اس سے قبل بھی اطلاعات تھیں کہ ڈمہ ڈولا میں ان کے مکان پر چھاپہ پڑ چکا ہے جس کے دوران وہاں سے ایک ازبک باشندے کو گرفتار کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں حملے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکے15 January, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولا میں مُلا فقیر محمد سے ملاقات 16 January, 2006 | پاکستان ’بمباری میں حکومت کاہاتھ ہے‘16 January, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولا میں امریکہ مخالف مظاہرہ22 January, 2006 | پاکستان ’امریکی حملے، کابل میں بات‘13 February, 2006 | پاکستان باجوڑ: پولیس اہلکار ہلاک08 May, 2006 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، تین افراد زخمی18 May, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولہ کی آسیہ: ’میری آنکھ میں چھرے لگے‘01 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||