باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام نے سنیچر کو مقامی جرگے کی ضمانت پر القاعدہ سے تعلق کے شبہہ میں گرفتار نو قبائلیوں کو رہا کر دیا ہے۔ ان افراد کو اس سال مئی میں باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے ڈمہ ڈولا سے القاعدہ سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں باجوڑ میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سابق امیر مولانا فقیر محمد اور ان کے چچا کے مکانات پر آدھی رات کے چھاپے کے دوران عمل میں آئیں تھیں۔ گرفتار افراد میں مولانا بشیر احمد، مولانا گل محمد، ضیاءالحق، حبیب اللہ، ڈاکٹر اسماعیل، جمال سید، مولانا عنایت الرحمان، جان محمد، مولانا بہادر خان اور مولانا بشر شامل تھے۔ انہیں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک ملزم مولانا جان محمد دوران حراست ہلاک ہوگئے تھے۔ اس معملے پر غور کے لئے سنیچر کو باجوڑ کے صدر مقام خار میں قبائلی عمائدین کا ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا جس نے پولیٹکل انتظامیہ سے ان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ پولیٹکل ایجنٹ باجوڑ محمد فہیم وزیر نے یہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ان افراد کی ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کیا۔ رہائی کی شرائط کے مطابق یہ لوگ باجوڑ میں پرامن طور پر رہیں گے اور انتظامیہ کو ان کی ضرورت پر جرگہ انہیں ان کے حوالے کرے گا۔ رہائی پانے والوں نے اس موقع پر القاعدہ سے روابط کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ اس سال جنوری میں ڈمہ ڈولا میں امریکی حملے میں تیرہ افراد کی ہلاکت کے بعد سے حالات کسشدہ چلے آ رہے تھے۔ خیال ہے کہ اس رہائی سے انہیں معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ | اسی بارے میں باجوڑ بمباری پر شدید احتجاج14 January, 2006 | پاکستان ’بمباری میں حکومت کاہاتھ ہے‘16 January, 2006 | پاکستان حملے کا سبب کھانے کی دعوت16 January, 2006 | پاکستان باجوڑ: پولیس اہلکار ہلاک08 May, 2006 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، تین افراد زخمی18 May, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولہ کی آسیہ: ’میری آنکھ میں چھرے لگے‘01 June, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان باجوڑ: سرکاری اہلکار پر بم حملہ28 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||