BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک

ہلاک ہونے والوں کی عمر پندرہ سے تیس برس کے درمیان تھیں
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں فوج نے سوموار کی صبح بمباری کر کے ایک مدرسے کو تباہ کردیا اور اس کارروائی میں اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مدرسہ شدت پسندوں کا ایک تربیتی مرکز تھا جس میں غیرملکی بھی موجود تھے جبکہ مقامی قبائلی اس سے انکار کرتے ہیں۔ مقامی قبائلی رہنماوں نے اس سرکاری دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ مدرسے میں عسکری تربیت دی جا رہی تھی یا اس میں غیرملکی موجود تھے۔

اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے سینر وزیر سراج الحق نے وزارت سے جبکہ باجوڑ سے رُکن قومی اسمبلی ہارون رشید نے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

واقعے کے بعد باجوڑ انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر صحافیوں کے علاقے میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

مذہبی جماعتوں نے حکومتی کارروائی کے خلاف منگل کو یومِ احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کو جماعتِ اسلامی اور کچھ دیگر مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے کراچی اور پشاور میں مظاہرے کیے۔

لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے کے بعد انسانی جسم کے ٹکڑے ہر طرف پھیل گئے

باجوڑ کے عوام پیر کو مقامی عسکریت پسندوں اور حکومت کے درمیان امن معاہدے پر کسی پیش رفت کی توقع کر رہے تھے جس کی امید اب تقریباً معدوم ہو گئی ہے۔

افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے بقول فوج نے کئی روز سے مولوی لیاقت کے مدرسے پر نظر رکھی ہوئی تھی اور ان اطلاعات کی تصدیق پر کہ مدرسے کو شدت پسند کارروائیوں کی تربیت کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے فوج نے صبح پانچ بجے یہ کارروائی کی۔ شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ فوج کے پاس ’ٹھوس شواہد‘ تھے کہ مدرسے میں ’شدت پسند‘ موجود ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے فوج نے کارروائی کی۔

ضیاالعلوم تعلیم القران نامی یہ مدرسے دس برس قبل قائم کیا گیا تھا۔ یہ مدرسہ باجوڑ کے صدر مقام خار سے تقریبا آٹھ کلومیٹر شمال میں ’چینہ گئی‘ کے مقام پر واقع ہے۔ یہ جگہ گزشتہ جنوری میں امریکی بمباری کا نشانہ بنے والے ڈمہ ڈولہ گاؤں اور افغان سرحد کے قریب ہے۔ بمباری اتنی شدید تھی کہ اس سے مدرسے کی ایک ہی دیوار ہی گرنے سے بچ پائی ہے۔

حملہ
 اچانک دو طیارے آج صبح فضا میں نمودار ہوئے اور مولانا لیاقت کے نام سے مشہور مدرسے پر بمباری شروع کردی۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ طیاروں نے تین بار مدرسے کو نشانہ بنایا اور یہ حملے اتنے شدید تھے کہ اس کی آوازیں کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔
عینی شاہدین

فوجی حکام کے مطابق گن شپ ہیلی کاپٹروں اور ہدف پر مار کرنے والے ہتھیاروں سے مدرسہ پر بمباری ہوئی جس سے اس کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

حملے میں مدرسے میں موجود تراسی میں سے اسی افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی عمریں بیس سے تیس برس کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ مدرسے کے منتظم اور کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نائب امیر چالیس سالہ مولوی لیاقت اور ان کے تین بیٹے بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ بمباری سے مدرسہ طلبہ کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے جبکہ اکثر کی لاشیں بھی بری طرح مسخ ہوگئیں۔ بمباری کی اطلاع پر ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ وہاں جمع ہوئے اور لاشوں کو اکھٹا کیا۔ البتہ چند لاشوں کی حالت ایسی تھی کہ انہیں صرف بوریوں میں ہی بند کیا جا سکتا تھا۔

سینر صوبائی وزیر سراج الحق جن کا آبائی علاقے دیر قریب ہی ہے اپنی سرکاری گاڑی وہیں چھوڑ کر موٹر سائیکل پر مدرسے پہنچے۔ انہوں نے ہی ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ پڑھائی اور بعد میں وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ باجوڑ سے جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید نے بھی اس موقع پر ایوان سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

شوکت سلطان کے مطابق مرنے والوں میں کوئی ’اہم غیرملکی شخصیت‘ نہیں ہے

تاہم جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں مستعفی ہونے کے فیصلے کی اہمیت قدرے کم کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ سراج الحق سے پارٹی نے گزشتہ دنوں سرکاری یا پارٹی عہدے میں سے ایک رکھنے کا تقاضا کیا تھا۔ سراج الحق جماعت اسلامی کے صوبائی امیر بھی ہیں۔ اس کے جواب میں سراج الحق نے مناسب وقت پر وزارت سے استعفی کے اعلان کا وعدہ کیا تھا۔

ہارون رشید کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا استعفی قومی اسمبلی کو نہیں بلکہ انہیں بھیجا ہے۔

مدرسے پر بمباری کے بعد حکومت کو مطلوب مولانا فقیر محمد بھی وہاں موجود تھے۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلح نقاب پوش عسکریت پسند بھی جنازے میں موجود تھے۔

حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب قبائلی عسکریت پسند مولانا فقیر محمد بھی بمباری کے بعد وہاں پہنچے اور لوگوں سے خطاب میں کہا کہ کفار انہیں اس طرح ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کسی کو مدرسے میں کوئی ہتھیار یا عسکری سامان دکھائی دیتا ہے؟

اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے آج صدر مقام خار کے بازار بند رہے اور مشتعل افراد نے مظاہرے کئے۔ باجوڑ میں اس واقعے کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ حکومت نے بھی سکیورٹی فورسز کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

باجوڑ انتظامیہ نے آج ایک مرتبہ پھر بی بی سی سمیت کئی دیگر اخبارات کے صحافیوں کو باجوڑ داخل نہیں ہونے دیا۔ اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم ماضی میں بھی حکام یہ اقدام اٹھاتے رہے ہیں۔

دکھ کی بات
 مدرسے میں حملے کے وقت 80 طالب علم موجود تھے جنہوں نے عید کی چھٹیوں کے بعد تعلیم کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ موقع پر موجود لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے کے بعد انسانی جسم کے ٹکڑے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم نے جو کچھ دیکھا اس سے ہمیں دکھ ہوا ہے
عینی شاہد

پولیٹکل ایجنٹ باجوڑ فہیم وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کی وجہ ذرائع ابلاغ کا لوگوں کو مشتعل کرنا بتائی تھی۔ البتہ صحافیوں کی دور رکھنے کی پالیسی کوئی زیادہ کامیاب نہیں رہی ہے۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب باجوڑ میں حکومت اور مقامی قبائل کے درمیان شمالی وزیرستان طرز کے امن معاہدے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اس بابت مقامی قبائلی رہنماوں اور حکومت کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیئے مذاکرات متوقع تھے۔

دو روز قبل مقامی شدت پسندوں نے باجوڑ میں ایک بڑے مظاہرے میں اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مقامی شدت پسندوں کے رہنما مولانا محمد فقیر نے حکومت کو امن عامہ کی بحالی کے لیئے تعاون کی پیشکش بھی کرائی تھی۔

اس مظاہرے سے ہلاک ہونے والے مولوی محمد لیاقت نے بھی خطاب کیا تھا۔

اس سال جنوری میں باجوڑ کے ڈمہ ڈولہ گاوں پر امریکی بمباری سے تیرا افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی موجودگی کی اطلاع پر کیا تھا تاہم وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج کے حملے کے بارے میں بھی قبائلیوں کو شک ہے کہ یہ سرحد پار افغانستان سے امریکی افواج نے کیا ہے تاہم پاکستانی حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

مدرسے کے قریب رہائشی اخوندزادہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ چند روز سے علاقے میں جاسوسی کرنے والے طیاروں کی پروازیں دیکھ رہے تھے۔ ایک دوسرے عینی شاہد جاوید نے بتایا کہ حملے کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں نمودار ہوئے تاہم ان کی جانب سے بمباری نہیں کی گئی۔ وہ کئی گھنٹوں تک فضا میں گھومتے رہے۔

جماعت اسلامی نے کل ملک بھی میں مزید پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔ تاہم اسلامی جمعت طلبہ نے آج پشاور پریس کلب کے سامنے باجوڑ کے واقعے کے حلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے امریکہ اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی۔

جعمیت علما اسلام کے باجوڑ سے سینٹر مولانا عبدالرشید اور رکن قومی اسمبلی مولانا محمد صادق نے بھی کل احتجاج کی کال دی ہے۔

قبائلیباجوڑ پر حملہ
امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ہیں:ہارون
باجوڑ: خوش آمدید
ایمن الظواہری آئیں تو فخر ہوگا: مُلا فقیر محمد
باجوڑ سے براہِ راست
حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا: رحیم اللہ
ڈمہ ڈولہ کی آسیہ
’میری آنکھ میں چھرے لگے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد