BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 December, 2006, 04:39 GMT 09:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف مقبول ترین: امریکی ادارہ

پرویز مشرف
مقبولیت کے اعتبار سے بے نظیر بھٹو دوسری بڑی رہنما ہیں جبکہ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف تیسرے نمبر پر ہیں
انگریزی اخبار ڈان کے مطابق ایک امریکی ادارہ کے پاکستان میں کرائے گئے عوامی رائے عامہ کے جائزہ سے پتہ چلا ہے کہ صدر جنرل پرویزمشرف عوام میں حزب اختلاف کے رہنماؤں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں۔

سنیچر کو ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں حکمران جماعت کے تحقیقی شعبہ ری پبلکن انسٹیٹیوٹ نے تین ماہ پہلے ستمبر میں پاکستان میں سیاسی معاملات پر رائے عامہ کا ایک سروے کروایا تھا جس کے نتائج ابھی باقاعدہ طور پر نشر نہیں کیے گئے تاہم اخبار نے اس سروے کے نتائج حاصل کیے ہیں۔

اس تحقیقی جائزہ کے مطابق پاکستان بھر میں مقبولیت کے اعتبار سے بے نظیر بھٹو دوسری بڑی رہنما ہیں جبکہ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف تیسرے نمبر پر ہیں۔

تاہم جائزہ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن بے نظیر بھٹو صوبہ سندھ اور سرحد میں سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں اور ان کی پارٹی بھی ان دو صوبوں میں پہلے نمبر پر ہے۔

سروے نتائج کے مطابق پنجاب میں سرکاری مسلم لیگ اور بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل سب سے مقبول جماعتیں ہیں۔ پنجاب میں دوسرے نمبر پر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (نواز) ہے۔

مشرف کا پوسٹر
پاکستان مں ایک طبقۂ فکر کچھ ایسے بھی سمجھتا ہے

اس جائزہ کے مطابق پاکستان کے لوگوں کی اکثریت (باون فیصد) کا کہنا تھا کہ اگر عام انتخابات جنرل مشرف کی بجائےایک غیر جانبدار نگران حکومت کے زیر انتظام کرائے جائیں تو زیادہ شفاف ہوں گے۔

جن لوگوں سے سوالات پوچھے گئے ان میں سے ستر فیصد کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک واپس آنے کی اجازت دی جائے۔

اس جائزہ میں ستائیس اعشاریہ چار فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ آئیندہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے اور بائیس فیصد نے کہا کہ وہ پیلز پارٹی کو ووٹ دیں گے جبکہ سندھ میں چھیالیس فیصد نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے اور صرف چودہ فیصد لوگوں نے سرکاری مسلم لیگ کے حق میں رائے ظاہر کی۔

سروے کے مطابق جن لوگوں سے سوالات پوچھے گئے ان میں سے بائیس فیصد نے شوکت عزیز کو سب سے اچھا وزیراعظم قرار دیا جبکہ انیس فیصد نے بے نظیر بھٹو اور گیارہ فیصد نے نواز شریف کے حق میں رائے دی۔ سولہ فیصد لوگوں نے کہاکہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

اخبار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سروے کتنے افراد کے انٹرویوز پر مشتمل ہے اور اس میں غلطی کی گنجائش کتنی ہے۔

اسی بارے میں
مشرف کے قیام کے دوران دھماکے
09 December, 2006 | پاکستان
’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘
19 October, 2006 | پاکستان
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد