’غیرمقبول ہوا تواقتدارچھوڑدوں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے سات سالہ دور میں وفاقِ پاکستان زیادہ مضبوط نہیں ہوا اور انہیں کم کامیابی ہوئی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اس سمت میں کام ہورہا ہے۔ نجی ٹی وی چینل جیو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اقتدار چھوڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں احساس ہوا کہ قوم کو ان کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر مقبول ہوگئے ہیں تو وہ اقتدار چھوڑ دیں گے۔ مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف دس برس تک پاکستان نہ آنے کی ڈیل کر کے باہر گئے ہیں۔ ’جب نواز شریف نے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تو میں نے کہا کہ شریف خاندان کے یا تو سب لوگ باہر جائیں گے یا کوئی بھی نہیں جائے گا‘۔ صدر نے کہا ہے کہ نواز شریف ان کی ’کلیئرنس‘ کے بعد ہی سعودی عرب سے لندن جا سکے اور ان کے بقول انہوں نے ان کے ساتھ ہمدردی دکھائی ہے۔ ایک سوال پر صدر مشرف نے کہا ہے کہ سن دوہزار سات کے انتخابات میں نواز شریف اور بینظیر کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی البتہ اس کے بعد وہ ان کو معافی دینے کے بارے میں سوچیں گے۔ صدر نے کہا ہے کہ نواز شریف اگر معاہدے کی خلاف ورزی کر کے ملک میں آتے ہیں تو ہنگامہ اور افراتفری ہوگی جبکہ ان کےمطابق بینظیر اپنی مرضی سے گئی ہیں اور وہ آئیں گی تو انہیں مقدمات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف دو میجر جنرلوں انیس باجوہ اور شجاعت کو ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے سازش اور غداری کی تھی۔ القاعدہ کے خلاف آپریشن میں جو گرفتاریاں ہوئیں اس کے بدلے ملنے والی رقم کے بارے میں متضاد بیانات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ان کی بھی غلطی ہے کہ جو پیسے ملے وہ حکومت کے خزانے میں نہیں بلکہ اداروں کو ملے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کارگل میں پہلے ’مجاہدین‘ گئے پھر فوج گئی اور اس جنگ کے مقاصد حاصل کرلیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا۔ تاہم انہوں نے کارگل کی جنگ کے بارے میں تحقیقات کے بارے میں کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اس کی ضروری نہیں۔ ان کے مطابق نواز شریف کو مطلع نہ کرنے کے بارے میں ان کے دعوے غلط ہیں اور راجہ ظفرالحق گواہ ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ کارگل سے فوج کو واپس بلانے کی ضرورت نہیں۔ ایک اور سوال پر صدر نے کہا کہ جب نوازشریف کی صدر فاروق لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے کشیدگی چل رہی تھی اس وقت جنرل علی قلی خان نے مشورہ دیا تھا کہ مارشل لا لگا دیں۔ صدر کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کی برطرفی کی مخالفت کی تھی۔ صدر نے کہا کہ وہ جنرل علی قلی خان کے استاد رہے ہیں اور جب علی قلی خان کو فاروق لغاری نے چیف آف جنرل سٹاف بنوایا تو انہیں مایوسی ہوئی تھی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی وہ آرمی چیف کے احکامات مان رہے تھے۔ صدر نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار صدر کو ہونا چاہیے وزیراعظم کو نہیں۔ ان کے مطابق آرمی چیف سینیارٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹاپ موسٹ چار پانچ سینیئر جرنیلوں میں سے کسی کو بنانا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ملازمت کی ابتداء میں ایک بار وہ بغیر چھٹی لیے چلے گئے اور ان کا کورٹ مارشل ہورہا تھا لیکن پینسٹھ کی جنگ نے انہیں بچالیا تو صدر نے کہا کہ وہ چھٹی لیے بنا چھانگا مانگا سے کراچی جارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جوان آدمی کا خون گرم ہوتا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی عینک اور گھڑی وغیرہ اس بات کے ثبوت کے طور پر دکھائی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق جب جہاز تباہ ہوتا ہے تو بھی اس طرح کی چیزیں سلامت ملتی ہیں۔ ضیا الحق کی ہلاکت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک تخریبکاری تھی اور جہاز میں ایسی گیس تھی جس سے پائلٹ بے ہوش ہوئے اور حادثہ پیش آیا۔ ان کے مطابق اس بارے میں مزید تحقیقات نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ جانچ میں یہ کہا گیا تھا کہ جہاز کی تباہی تخریبکاری کا واقعہ ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ سن دوہزار سات میں شفاف انتخابات کروائیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نتائج چاہے کچھ بھی ہوں لیکن اگر حزب مخالف والے نہیں جیتیں گے تو وہ اسے بے ایمانی کہیں گے۔’ان کے لیے آپ آسمان سے تارے توڑ کر لائیں تو بھی انہوں نے یہی کہنا ہے کہ فراڈ ہوگیا ہے‘۔ | اسی بارے میں مشرف بک: ’سب سے پہلے پاکستان‘22 October, 2006 | پاکستان میرے پاس کارگل کا ثبوت ہے: نواز21 October, 2006 | پاکستان بی بی، نواز، مشرف میں کچھ بھی ممکن 21 October, 2006 | پاکستان ’نواز، بینظیر انتخابات میں نہیں‘11 October, 2006 | پاکستان تعمیرِ نو کے لیئے تین برس: مشرف 05 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||