BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرے پاس کارگل کا ثبوت ہے: نواز

نواز شریف
نواز شریف لندن میں بینظیر بھٹو سے مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں
پاکستان میں انگریزی زبان کے ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس انیس سو ننانوے کی کارگل جنگ کا ایک ایسا ٹیپ موجود ہے جس میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو ریکارڈ کی گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا گیا۔

ایک انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز نے سنیچر کی اشاعت میں اپنے نمائندے اور خبر رساں ادارے آن لائن کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے انہیں بتایا ہے کہ ’پہلی بار مجھے فوج کے جنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں چھبیس مئی سن ننانوے کو ریکارڈ کیے گئے اس ٹیپ سے پتہ چلا جس میں جنرل پرویز مشرف جنرل عزیز سے کہہ رہے ہیں کہ اگر وزیراعظم کو ان کے منصوبے کا پتہ چل گیا تو‘۔

اخبار کے مطابق نواز شریف نے کارگل کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ دوہرایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے پاس موجود وہ ٹیپ فوج کی شروع کردہ کارگل مہم کے بارے میں ثبوت کے طور پر کمیشن کے سامنے پیش کردیں گے۔

سابق وزیراعظم نے ان الزامات کو بھی سختی سے مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کارگل کی تحقیقات کے لیے جی ایچ کیو کے سینیئر جرنیلوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی تھی کہ اس کی ذمہ داری آرمی چیف ( جنرل پرویز مشرف) پر عائد کی جائے۔ ’میں نے ایسی کوئی کمیٹی نہیں بنائی تھی‘۔

اخبار کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کارگل کے معاملے میں انہوں نے جنرل پرویز مشرف، جنرل عزیز اور جنرل محمود کا کورٹ مارشل اس لیے نہیں کیا کہ انہوں نے فوجی جرنیلوں کے جرائم کو ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

’میں نے فیصلہ کیا کہ حقائق سے پردہ نہیں اٹھاؤں گا اور ایسا کچھ اس لیے کیا کہ کہیں مسلح افواج پر اس کے منفی اثرات نہ پڑیں۔ میں نے عظیم قربانی دیتے ہوئے فوج کو بحران سے نکالنے کے لیے خود ذمہ داری اٹھائی‘۔

اس خبر کے سلسلے میں جب برطانیہ میں مسلم لیگ(نواز) کے ترجمان پرویز رشید سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مشرف اور جنرل عزیز کے درمیان کارگِل کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ یہ ٹیپ سب سے پہلے ہمسایہ ملک انڈیا میں ایک پریس کانفرنس میں منظر پر لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیپ میں دو باتیں اہم تھیں، ایک یہ کہ دونوں جرنیلوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے پہلی بار انڈیا یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا کہ کارگل میں مجاہدین نہیں پاک فوج کے جوان بر سر پیکار ہیں کیونکہ جنرل مشرف بار بار ’یور بوائز، یور بوائز‘ کے الفاظ کا استعمال کر رہے تھے، دوسری طرف یہ بات بھی بار بار کہی گئی کہ سب کارروائی وزیر اعظم کے علم میں نہیں آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیپ کے ذریعے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ انہیں پورے کارگل معاملے سے بے خبر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کارگِل سے متعلق کمشن بنایا گیا تو وہ ضرور اس ٹیپ کو زیر غور لائے گا کیونکہ یہ پہلے ’پبلک ڈومین‘ میں ہے۔

اسی بارے میں
’ کتاب سکیورٹی رسک ہے‘
27 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد