BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 July, 2006, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز شریف کو کارگل کا علم تھا‘

جنرل مشرف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف
جنرل مشرف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف
صدر جنرل پرویز مشرف نے تصاویری ثبوت پیش کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ان دعووں کو غلط قرار دیا ہے کہ کارگل ’آپریشن‘ سے پہلے فوج کی ہائی کمان نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

یہ بات انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی جس کا متن ڈیلی ٹائمز میں شائع کیا گیا ہے۔

اس میں صدر مشرف نے کہا ہے کہ نواز شریف کو پانچ فروری 1999 میں کشمیر میں کیل سیکٹر کے دورے کے دوران کارگل آپریشن کے بارے میں جنرل محمود جن کو بعد میں آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی نے بریفنگ دی تھی۔

 اس میں صدر مشرف نے کہا ہے کہ نواز شریف کو پانچ فروری 1999 میں کشمیر میں کیل سیکٹر کے دورے کے دوران کارگل آپریشن کے بارے میں جنرل محمود جن کو بعد میں آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی نے بریفنگ دی تھی

نواز شریف نے اپنی حالیہ کتاب ’غدار کون؟ شریف کی کہانی ان کی زبانی‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں یہ دعوی کیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کی حیثیت سے کارگل آپریشن کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور انہیں اس آپریشن کے بارے میں اس وقت کے انڈین وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے معلوم ہوا تھا۔

اخبار نے تین تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں سے ایک میں جنرل پرویز مشرف فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ایک برف پوش علاقے میں نواز شریف کا استقبال کر رہے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں وزیر اعظم کو جنرل مشرف اور راجہ ظفر الحق کی موجودگی میں بریفنگ دی جا رہی ہے اور ایک اور تصویر میں نواز شریف فوجی جوانوں سے خطاب کر ر ہے ہیں اور پس منظر میں برف پوش پہاڑ نظر آ رہے ہیں۔

تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ محض تصاویر کے دکھانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بریفنگ میں کیا باتیں ہوئیں اور کیا نہیں۔

صدر مشرف نے ان تصاویر کے بارے میں دعوی کیا کہ یہ تصاویر ایک ہی دن اتاری گئی ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ نواز شریف کو اس آپریشن کے بارے میں نہ صرف علم تھا بلکہ انہیں اس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بریفنگ وزیر اعظم کو اس وقت کے انڈین وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ پاکستان سے قبل دی گئی تھی۔

اس انٹرویو میں انہوں نے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا تو پھر سخت برفباری کے موسم میں انہیں کشمیر میں کیل سیکٹر میں اگلے مورچوں کا دورہ کیوں کرایا جاتا۔

جنرل مشرف نے کہا کہ اگر کوئی شخص مستقل طور پر جھوٹ بول رہا ہو تو پھر اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

 جنرل مشرف نے کہا کہ اگر کوئی شخص مستقل طور پر جھوٹ بول رہا ہو تو پھر اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیر اعظم یہ کہے کہ اتنے اہم آپریشن کے بارے میں انہیں انڈین وزیر اعظم سے علم ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کا اہل نہیں ہے۔

انہوں نے کارگل آپریشن کو جنگ کا نام دیئے بغیر کہا کہ کارگل اور مجاہدین آپریشن کی کارروائیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو اہمیت حاصل ہوئی۔

انہوں نے نواز شریف کو خبردار کیا کہ کارگل سے متعلق امور پاکستان کے لیئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور انہیں اس طرح مشتہر نہیں کرنا چاہیے جس طرح سابق وزیر اعظم کر رہے ہیں۔

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ کارگل کے حوالےسے صدر مشرف حقائق کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں۔

صدر مشرف کے ایک انٹرویو پر اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا پانچ فروری انیس سو نناوے کو کیل سیکٹر میں ہونے والی ملاقات اس سیکٹر میں ایک متبادل سڑک بنانے کے منصوبے کے حوالے سے ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مظفرآباد سے کیل سیکٹر جانے والی سڑک انڈین فوج کی رینج میں تھی اور اس پر مسلسل گولہ باری کی وجہ سے کیل سیکٹر سے رابط منقطع رہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی مسئلہ کے پیش نظر دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے نواز شریف کی حکومت نے مانسہرہ کاغان کے ذریعےکیل سیکٹر تک ایک متبادل سڑک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیئے مسلم لیگ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ایک آزادنہ کمیشن کے ذریعے اس پورے واقعے کی تحقیقات کرائی جانی چاہیں جسے حکومت ہمیشہ نظر انداز کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں بھی اس مطالبہ کو دہرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف خود بھی اس معاملہ پر وزیر اعظم سے کچھ حقائق چھپانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

انہوں نے صدر مشرف کے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ کارگل کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں مدد ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کارگل کے بعد عالمی رائے پوری طرح کشمیر کے مسئلہ پر انڈیا کے حق میں ہو گئی تھی ۔

نواز شریف اور جنرل مشرفکارگل اور چار کا ٹولہ
کارگل جنگ چار جرنیلوں کی جنگ تھی: نیا انکشاف
کارگلکارگل : ذمہ دار کون
کارگل کے موضوع پر علی احمد خان کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد