BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 July, 2004, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ حکم منوانے کا عادی ہے

کارگل دونوں ملکوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا
کارگل دونوں ملکوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا
پاکستان میں نامزد وزیراعظم جناب شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے نے اخبارات اور ابلاغ کے دوسرے ذریعوں کو ایک اور موضوع فراہم کردیا ہے جو یقینی طور پر کئی دنوں تک شہ سرخیوں کی زینت بنا رہے گا لیکن حقیقی معنوں میں آج کل یہاں جو موضوعات اخبارات اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات کے مرکز بنے ہوئے ہیں ان میں ، ایک تو یہ ہے کہ کرگل میں فوج بھیجنے کا فیصلہ کس نے کیا ، اور دوسرا یہ کہ فوج عراق بھیجی جائے یا نہیں۔

جہاں تک کرگل کا تعلق ہے تو یہ بحث غالباً پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ایما پر شروع ہوئی ہے۔

ان کا اور ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ کرگل میں فوج بھیجنے کا فیصلہ بری فوج کے سربراہ اور موجودہ صدر جنرل پرویز مشرف صاحب نے اپنے طور پر کیا تھا اور وزیر اعظم اور حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، جب کہ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ میاں صاحب اس کارروائی سے خوب اچھی طرح واقف تھے اور جرنل مشرف نے ان کو اس سلسلے میں اعتماد میں لیا تھا۔

مسلم لیگ نواز گروپ کا مطالبہ

News image
ہے کہ اصل حقائق پر سے پردہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک کمیشن قائم کیا جائے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اسوقت کی پوری حکومت پر عائد ہوتی ہے، کسی ایک شخص کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، دوسرے یہ کہ اگر جنرل پرویز مشرف نے یا کسی نے بھی یہ حرکت حکومت کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لاے بغیر کی تھی تو اس کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے تھی اور میاں صاحب یا ان کے احباب اگر اس وقت یہ کارروائی کرتے تو انہیں عوام کی بھی حمایت ملتی اور ایک ایسی اچھی روایت پڑجاتی کہ آئندہ کسی میں ایک جائز حکومت کی مرضی کے بغیر کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔

لیکن اس وقت تو میاں صاحب یہ تسلیم کرنے پر بھی تیار نہیں تھے کہ یہ پاکستانی فوجی ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ” تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ” کشمیری مجاہدین نے یہ کارروائی کی ہے ، پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب اچانک اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا خیال جو انہیں آیا ہے تو یہ کچھ اچھا نہیں لگتا بلکہ اگر مجھے اجازت دیں تو میں اسے سیاسی موقع پرستی سے تعبیر کروں گا۔

اب رہا عراق فوج بھیجنے کا مسئلہ ۔ تو عراق کے خلاف امریکی حملے کے فوراً بعد ہی یہ مسئلہ چھڑ گیا تھا لیکن دو پاکستانیوں کے سر قلم ہونے کے بعد اس موضوع نے اور شدت اختیار کرلی ہے اور آپ یقین مانیے کہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ اس ظالمانہ اور مذموم حرکت کے بعد پاکستان میں عراقی مزاحمت کاروں کے خلاف نفرتیں بڑھیں گی اور امریکہ کی مخالفت میں کمی آئے گی اور ممکن ہے اس سے پاکستانی فوج عراق بھیجنے کے لئے حالات سازگار ہوجائیں ، لیکن حیرت انگیز طور پر اس کا بالکل الٹ اثر ہوا اور لوگ ان بہیمانہ قتل کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن اس کا بھی ذمہ دار امریکہ کو ہی گردانتے ہیں۔

اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ کا پاکستان کی حکومت پر بے پناہ دباؤ ہے کہ وہ فوج عراق بھیجے۔

اب پرویز مشرف صاحب کو امریکہ کی دوستی پر بڑا ناز بھی رہا ہے اور وہ فخریہ اس کا ذکر بھی کرتے رہے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکہ اپنے قریبی دوستوں سے بھی حکم منوانے کا عادی ہے۔ اس کی شکایت سابق صدر ایوب مرحوم اپنی خود نوشت ” فرینڈز ناٹ ماسٹر” میں کر چکے ہیں۔

اگرچہ پرویز مشرف صاحب کمال ہوشیاری سے امریکی دباؤ میں آنے سے گریز کرتے رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں عراق فوج بھیج کر اپنی دوستی کا حق ادا کرنا ہی پڑے گا۔ پاکستان نے امریکی دباؤ کو ٹالنے کے لیے جو تین شرطیں رکھی تھیں ان میں سے دو تو بڑی حد تک پوری ہوگئی ہیں یعنی فوجیں اقوام متحدہ کے تحت جائیں گی اور عراقی حکومت کی درخواست پر جائیں گی۔

تیسری شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ میرا خیال ہے پاکستان میں اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوگا۔ اگر حزب اختلاف کی جماعتوں کو آمادہ کر بھی لیا گیا تو پاکستان کے عوام کو آمادہ کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ میرے خیال میں ناممکن ہے۔ صدر پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کو اس بات کا غالباًاندازہ ہے اسی لئے وہ اب تک پس وپیش کر رہے ہیں۔

صرف ایک ہی شکل کسی حد تک قابل قبول ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی فوجیں وہاں سے واپس بلائیں اور ان کی جگہ عرب ملکوں سمیت ترقی پزیر ملکوں پر مشتمل ایک فوج اقوام متحدہ کے تحت وہاں تعینات کی جائے جو وہاں امن وامان قائم رکھنے میں عراقی حکومت کی مد د کرے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر عراقی مزاحمت کار یہ قبول بھی کرلیں تو کیا امریکہ کے لیے یہ صورت قابل قبول ہوگی؟ اگر نہیں تو امریکہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کو فوج بھیجنے پر مجبور کرسکتا ہے لیکن عراقی مزاحمت کاروں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا اس کے لئے شاید اتنا آسان نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد