BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 September, 2006, 11:17 GMT 16:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کتاب سکیورٹی رسک ہے‘

کتاب
اس کتاب میں جنرل مشرف کے کئی سنسنی خیز انکشافات شامل ہیں
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب’ان دی لائن آف فائر‘نے ملک میں متعدد نئے ایشوز کو جنم دیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اس پر اپنے اپنے انداز سے تبصرہ کر رہے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل مشرف کی یہ کتاب بنیادی طور پر خود ستائشی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔

ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جنرل مشرف نے جس بازاری انداز میں قومی راز افشاء کیئے ہیں وہ نہ تو قانوناً درست ہے اور نہ ہی اخلافاً

ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں انہوں نے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور برصغیر کی دیگر شخصیات کی تضحیک کی ہے اس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیچیدگیاں بڑھنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارگل اور ایٹمی پھیلاؤ کے حوالے سے جنرل مشرف کی یہ کتاب یقیناً پاکستان کو آنے والے دنوں میں مشکل مراحل سے دوچار کرے گی۔

ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کو صدرِ پاکستان اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے یہ کتاب لکھنے کا حق حاصل نہیں اور اس کتاب سے دنیا میں پاکستان کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے جس بازاری انداز میں قومی راز افشاء کیئے ہیں وہ نہ تو قانوناً درست ہے اور نہ ہی اخلافاً۔ لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی آزادانہ طور پر میڈیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہو گا اس وقت تک ایٹمی پھیلاؤ میں ڈاکٹر خان کے کردار کے حوالے سے صدر مشرف کے دعوؤں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

 اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں انہوں نے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور برضعیر کی دیگر شخصیات کی تضحیک کی ہے اس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیچیدگیاں بڑھنے کا امکان ہے

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں موجود مواد دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو بگاڑنے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں بارہا کہا گیا ہے کہ پاکستان کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کا سامنا ہے اور جنرل مشرف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر وہ نہ رہے تو پاکستان انتہا پسندوں کے ہاتھ میں چلا جائےگا۔

 عمران خان کے مطابق اس کتاب میں ڈاکٹر قدیر خان کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی گئی ہیں اس سے دنیا کو یہ تاثر ملا ہے کہ پاکستان اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے غافل ہے

عمران خان کے مطابق اس کتاب میں ڈاکٹر قدیر خان کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی گئی ہیں اس سے دنیا کو یہ تاثر ملا ہے کہ پاکستان اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے غافل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں امریکہ اور انڈیا کے حوالے سے جو باتیں کہی گئی ہیں ان کی عالمی تردید سامنے آنا شروع ہو گئی ہے جس سے اس کی صداقت مزید مشکوک ہو گئی ہے۔

ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ جنرل مشرف کی یہ کتاب پاکستان کے دفاعی امور کے حوالے سے ایک سکیورٹی رِسک ہے اور صدر مشرف نے اس کتاب میں جو راز بتائے ہیں ان کے حوالے سے پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالےسے جھوٹ بولا ہے اور اس سے مستقبل میں پاکستان کے لیئے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

 چوہدری نثار کے مطابق اس کتاب میں جس طریقے سے کارگل جنگ کی تشریح کی ہے وہ سراسر غلط ہے اور انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو غلط معلومات فراہم کی تھیں

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف نے سربراہِ مملکت ہوتے ہوئے اپنی کتاب میں قومی راز افشا کیئے ہیں جو کسی طور پر بھی درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب بیچنے کی خاطر ملکی مفادات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ چوہدری نثار کے مطابق اس کتاب میں جس طریقے سے کارگل جنگ کی تشریح کی ہے وہ سراسر غلط ہے اور انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو غلط معلومات فراہم کی تھیں۔

جنرل پرویز مشرفڈیل کی تفصیل نہیں
کتاب میں مشرف نواز ڈیل کی تفصیل نہیں ہے
مشرف کی کتابدو دنوں میں بارہ ہزار
کتاب کی پاکستان میں زبردست سیل ہو رہی ہے
مشرف’ہمیں اربو ڈالر ملے‘
قیدی امریکہ کے حوالے کرنے پر انعام
اسی بارے میں
’ آرمیٹیج سچے ہیں یا مشرف‘
25 September, 2006 | پاکستان
’بائے دا بُک‘
22 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد