BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 September, 2006, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو دنوں میں بارہ ہزار کاپیاں

اس کیٹیگری میں کتاب نے کم از کم ہمارے ادارے کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں: محمد سلیم
صدر مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کی فروخت نے اس کے پاکستانی ڈسٹری بیوٹروں کو حیران کر دیا ہے۔ ’لبرٹی بک کراچی‘ کے سربراہ محمد سلیم کے مطابق ’پہلے دو روز میں بارہ ہزار کتابیں فروخت ہوچکی ہیں اور آڈر ہیں کہ آئے چلے جارہے ہیں۔‘

صدر جنرل مشرف کی کتاب کی اشاعت کے حقوق تو ایک امریکی ادارے کے پاس ہیں لیکن پاکستان میں کتاب کے تقسیم ’لبرٹی بک کراچی ‘ کے پاس ہے۔

محمد سلیم نے کہا کہ’ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کتاب کی فروخت تقریباً برابر کی ہے جبکہ دیگر شہروں میں بھی یہ ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے۔‘

کتاب پیر کو پاکستان کی مارکیٹ میں فروخت کے لیئے بھیجی گئی تھی لیکن لاہور میں یہ کتاب پیر کی شام تک صرف ایک دکان پر پہنچ پائی تھی۔

پاکستان میں کتابوں کی فروخت اور اشاعت کے ایک بڑے ادارے فیروز سنز کے ڈائریکٹر مقیب الاسلام نے بتایا کہ’ کل تک تو کسی کو کتاب کا علم نہیں ہوا تھا لیکن آج اس کی فروخت بہت اچھی رہی اور ہمارے پاس جتنی دو تین سو کتابیں تھیں وہ صبح ہی بک گئیں اور ہم نے مزید کاپیاں منگوا لی ہیں۔‘

لاہور کی ایک دوسری بک شاپ وین گارڈ کے شو روم مینیجر منور حسین نے اس کتاب کو ’ہاٹ کیک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’لوگ صبح سے ہماری دکان پر کتاب کے انتظار میں بیٹھے تھے اور جیسے ہی پہلی ڈیلوری آئی دیکھتے دیکھتے فروخت ہوگئی،مزید منگوائی تو چند منٹ میں وہ بھی ختم ہوگئی۔اب ہم تیسری کھیپ کے انتظار میں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے انہوں نے صرف فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی کتاب’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز ‘کی اتنی زیادہ طلب دیکھی تھی۔

پاکستان میں کتاب کے ڈسٹری بیوٹر محمد سلیم نے کہا کہ اس کیٹیگری میں اس کتاب نے کم از کم ان کے ادارے میں فروخت کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

فیروز سنز کے ڈائریکٹر مقیب الاسلام نے کہا ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب تک کتاب کی فروخت کے جو اشارے ملے ہیں وہ بہت اچھے ہیں تاہم ایک ہفتے میں صحیح علم ہو پائے گا کہ یہ کتاب فروخت کے ریکارڈ توڑ پائے گی یا نہیں۔‘

اس کتاب کے اردو ترجمےکے حقوق فیروز سنز کے پاس ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر نے توقع ظاہر کی ہے کہ تین سے چار ہفتوں میں اس کتاب کا اردو ترجمہ کم قیمت کے ساتھ مارکیٹ میں موجود ہوگا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کتاب کی قیمت اٹھائیس امریکی ڈالر کے برابر ہے جبکہ پاکستان میں اس کی خصوصی قمیت بارہ سو پچانوے ہے جو عام خریدار کے لحاظ سے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

مقیب الا سلام نے کہا ہے کہ ’اردو ترجمے کی قمیت انگریزی ایڈیشن کی پاکستانی قیمت کے نصف سے بھی کم ہوسکتی ہے۔‘

کراچی میں کتاب کا اجرا اتوار کو ہوا تھا اور اب یہ اشاعتی ادارے کے تمام بک اسٹالوں پر دستیاب ہے۔ لبرٹی بکس کے اسٹال شہر کے پوش علاقوں کلفٹن، طارق روڈ سمیت فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ہیں۔

کتاب کی اشاعت سے قبل ہی لبرٹی بُک کی جانب سے اگست میں اس کی ایڈوانس بکنگ کی جارہی تھی، جس پر دس فیصد رعایت دی جا گئی تھی۔

کراچی میں ادارے کے بک اسٹالوں سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس پورے مہینے میں کتاب کی صرف سوا چار سو کے قریب کاپیاں بک کی گئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسے قبل لوگوں میں یہ تاثر تھا کہ مشرف نے کتاب میں صرف ذاتی زندگی کے بارے میں لکھا ہوگا مگر جب میڈیا میں یہ آیا کہ کتاب میں ملکی سیاست پر زیادہ اظہار خیال ہے تو اس میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک دوسرے دُکاندر توفیق نے بتایا کہ ان کے پاس کتاب کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔’ایڈوانس بکنگ اتنی نہیں تھی مگر بعد میں اخبارات میں آنے کے بعد اس کی فروخت یکدم بڑھ گئی ہے۔‘

جنرل پرویز مشرف نے اپنا بچپن کراچی میں گذارہ ہے جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد