’نواز مشرف معاہدے کی کوئی تفصیل نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف کی آپ بیتی جہاں ایک پاکستانی کےذہن میں اٹھنے والے کئی سوالات کا جواب دیتی ہے وہاں اس کے لیئے کئی سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔ کتاب کے ابتدائیے میں وہ اپنے آپ پر ہونے والے جان لیوا حملوں کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا تاثر دیتے ہیں کہ جیسے کسی غیر مرئی قوت نے ان کی جان بچا کر انہیں اس ملک اور اس کے عوام کی خدمت کے لئیے چنا ہو۔ ان حملوں کو بیان کرتے ہوئے وہ ایک جرآت مند اور مضبوط اعصاب کے مالک شخص معلوم ہوتے ہیں جو زندگی کی تلخ خقیقتوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا جانتا ہے۔ اسی حقیقت پسندی کی ایک مثال تقسیم کے وقت ہونے والے قتلِ عام کے دو طرفہ ہونے کو تسلیم کرنا ہے۔ ترکی، کراچی اور اس کے بعد لاہور میں گزارے جانے والے سالوں کی کہانی سے مشرف ایک جسمانی طاقت اور اس کی نمائش میں دلچسپی رکھنے والے لڑکے کے طور پر سامنے آتے ہیں اور یہی جسمانی طاقت انہیں وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی ’گینگ‘ کا سربراہ بھی بناتی رہتی ہے اور شاید سربراہی کی یہی خواہش آج انہیں ان کے موجودہ مقام پر لے آئی ہے۔ مشرف نے اپنی کتاب میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کو پاکستان کے بدعنوان اور پاکستانی ثقافت سے نا آشنا لیڈروں کی پیداوار کا ذمہ دار قرار دیا ہے جسے تسلیم کرنا ممکن نہیں کیونکہ آج انہی کے دورِ حکومت میں پاکستان کے بہترین ذہنوں کو حکومتی خرچے پر انہی اداروں میں تعلیم کے حصول کے لیئے بھیجا جا رہا ہے۔ کتاب کے مطابق مشرف کو فوج میں بھیجنے کا فیصلہ ان کے شرارتی پن اور تعلیم میں اپنے بھائی جاوید کے مقابلے میں درمیانے درجے کا طالبعلم ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پی ایم اے میں جانے کے بعد سے نیشنل ڈیفنس کالج کے کورس تک بقول خود جنرل مشرف وہ’ہر میدان میں امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ ‘ کرتے رہے۔ وہ پی ایم اے کی جانب سے سکھائی جانے والی تین چیزوں یعنی لوگوں کو حکم دینے اور ان سے کام کروانے، جسمانی دباؤ کو برداشت کرنے اور بحران کے لمحوں میں فوری فیصلہ کرنے کو اپنی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر ان کے مطابق یہی صلاحیتیں بارہ اکتوبر ننانوے کو ان کی زندگی بچانے اور اس میں ایک بڑی تبدیلی لانے کا سبب بنتی ہیں۔ بطور پاکستانی شہری مجھے امید تھی کہ اس کتاب میں شریف خاندان کی جلاوطنی کے معاہدے پر روشنی ڈالی جائِے گی لیکن نجانے کیوں جنرل مشرف نے اس سارے قصے کو چند سطروں میں سمیٹ کر بہت سے سوالات تشنہ چھوڑ دیئے۔ اور ان کا یہ عمل اس لیئے بھی عجیب لگتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اس کتاب کا ایک باب کارگل جنگ کے حوالے سے نواز شریف کے کردار پر بحث کرتے لکھا ہے بلکہ اس کتاب میں انہوں نے شوکت عزیز اور جنرل احسن سلیم حیات پر ہوئے حملوں کو بھی تفصیلاً بیان کیا ہے۔ ایک اور بات جو مجھے بہت عجیب لگی وہ جنرل مشرف کی جانب سے بھٹو سے لے کر نواز شریف کے والد تک سیاست اور اس سے جڑے تمام کرداروں کا مضحکہ خیز انداز میں بیان ہے۔ جبکہ اس کے برعکس انہوں نے اپنی کتاب میں پاکستان کے کسی فوجی آمر یا افسر کے حوالے سے اس طرز کی بے تکلفانہ تنقید نہیں کی حتی کہ لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اور کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز سے اپنے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے بھی وہ شائستگی کا دامن تھامے نظر آتے ہیں۔ جنرل مشرف پاکستان مسلم لیگ (ق) کی تشکیل کی ذمہ داری تو قبول کرتے نظر آتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے امور اور اتحادوں کی تشکیل میں نجانے کیوں انہوں نے فوج کے ’بلا واسطہ‘ کردار سے صرفِ نظر کیا ہے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے حوالے سے صدر مشرف نے ایک تفصیلی باب تو تحریر کیا ہے لیکن اسے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی اربابِ اقتدار کو دلچسپی صرف اس امر سے تھی کہ ان کے پاس جوہری طاقت آ جـائے اور اس کے بعد جو ہو سو ہو۔ انہوں نے ڈاکٹر خان پر معلومات کی فروخت کے جو الزامات عائد کیئے ہیں ان کا جواب تو شاید اے کیو خان ہی دے سکیں لیکن جنرل مشرف نے انہیں ’محسنِ پاکستان‘ کے اعزاز سے محروم کرنے کی اپنی سی کوشش کر لی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے حوالے سے صدر مشرف کی باتوں میں کچھ زیادہ نیا نہیں اور یہ معلومات وقتاً فوقتاً اخبارات اور جرائد کے ذریعے سامنے آتی رہی ہیں تاہم جہاں تک اس جنگ کے آغاز پر امریکی رویے اور ’سٹون ایج‘ میں واپس بھیجنے کی دھمکی کا سوال ہے تو اصل حقیقت تو شاید ہمیں پتہ نہ چل سکے کیونکہ جنرل مشرف کے اس دعوے کی امریکی پر زور تردید کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے صدر مشرف کا یہ دعوی بھی مسترد کیا جا چکا ہے کہ سی آئی اے نے انہیں دہشتگرد پکڑوانےکے عوض کروڑوں ڈالر دیئے اور اب حقیقت کیا ہے یہ شاید کسی اور کتاب کے سامنے آنے پر واضح ہو۔ اور آخر میں اس کتاب کی تمام خوبیوں اور خامیوں سے قطع نظر میں یہ سمجھ نہیں پایا کہ مشرف نے صہبا فرید سے اپنی شادی کا تذکرہ اس باب میں کیوں کیا جس کا نام انہوں نے ’ان ٹو دا فائر‘ رکھا۔ (سلمان ظہیر قائد اعظم یونیورسٹی میں ’اپلائڈ سائکولوجی‘ میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔) |
اسی بارے میں مشرف کا امیج بہتر نہیں ہوا26 September, 2006 | آس پاس صدر مشرف کیا کہتے ہیں22 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||