BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 September, 2006, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر دیئے‘
مشرف
’صدر مشرف کی کتاب سے ایک نئی بحث جنم لے گی اور (ہند پاک) امن کے عمل کو بھی دھچکا لگے گا‘
برطانوی اخبار ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ سی آئی اے نے القاعدہ کے مشتبہ افراد امریکہ کے حوالے کرنے کے لیئے حکومت کو خفیہ طور پر کروڑوں ڈالر دیئے۔

اخبار کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے حمایتی ممالک کو اس طرح کے ’انعامات‘ دینے سے روکنے کے لیے کڑے قواعد و ضوابط ہیں۔


اخبار کے مطابق جنرل مشرف نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ سے تعاون کرنے اور ان کے حکم پر القاعدہ کے جن تین سو انہتر مشتبہ افراد کو امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا اس کے عوض حکومت کو کتنی رقم دی گئی۔

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے: ہمیں اس کا علم نہیں تھا۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے۔ انفرادی طور پر دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیئے اس طرح رقوم دی جاتی ہیں مگر غیر ملکی حکومتوں کو نہیں۔‘

ٹائمز اخبار کے مطابق یہ انکشاف صدر مشرف نے اپنی کتاب میں کیئے ہیں۔ ان انکشافات سے امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے پہلے سے دباؤ میں آئے ہوئے تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ ہے۔

سی آئی اے نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو کتنے پیسے دیئے۔

اپنی کتاب میں جنرل مشرف نے برطانوی شہری عمر شیخ کے حوالے سے، جن پر امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے، لکھا ہے کہ وہ وہاں کے خفیہ ادارے ایم آئی 6 میں اس وقت بھرتی ہوئے تھے جب لندن سکول آف اکنامکس میں زیرِ تعلیم تھے۔ بعد میں انہیں بلخان میں جہادی کارروائیوں میں شریک ہونے کے لیئے بھیجا گیا۔ صدر مشرف کے مطابق عمر شیخ بعد میں ڈبل ایجنٹ بن گئے۔

جنرل مشرف کا ہاٹ کیک
 ’یہ کتاب کم اور ہاٹ کیک زیادہ ہے۔ اس جنرل پرویز مشرف کو ذاتی طور پر تو بہت آمدنی ہو گی لیکن اس سے پاکستان کے اندر پولرائیزیشن کا سیاست بڑھے گی

اخبار کے مطابق جنرل مشرف کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک کی القاعدہ تنظیم کے ارکان کو پکڑنے کی خفیہ کارروائیوں کے بارے میں اس لیئے انکشاف کیا کیونکہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان القاعدہ کو ختم کرنے میں واضح کردار ادا نہیں کر رہا۔

’پرویز مشرف کو امریکہ کی پاکستان کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں پر بہت غصہ تھا اور انہوں نے اپنے کمانڈروں سے کہا تھا کہ وہ ’جنگی مشقوں‘ کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ اگر امریکی فوج بلا اجازت پاکستان علاقے کو استعمال کرے تو کیا وہ اس فوج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اخبار کے مطابق صدر مشرف کو واشنگٹن کا یہ مطالبہ بھی ناگوار گزرا تھا کہ وہ امریکہ کے خلاف پاکستان میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو دبائیں۔

پاکستان میں اپوزیشن اس بات پر سیخ پا ہے کہ اگلے برس کےانتخابات سے قبل جنرل مشرف نے اپنی شہرت میں اضافے کے لیئے کتاب لکھی ہے تاکہ وہ مزید پانچ سال تک اقتدار پر فائز رہیں۔ اپوزیشن یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ وہ اپنی کتاب سے ملنے والی خطیر رقم کا کیا کریں گے۔

ہیرو ثابت کرنے کی کوشش
 ’ اس کتاب میں انہوں نے (جنرل مشرف) کارگل پر زیادہ توجہ دی ہے اور خود کو کارگل کا ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

ٹائمز اخبار کے مطابق صدر کو کراچی میں ایک اجلاس کے دوران امریکہ پر ہوئے خود کش حملوں کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اور اگلے روز ایک اجلاس کے دوران ہی سابق امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاؤل نے انہیں ٹیلیفون کیا تھا۔ ’میں نے کہا کہ میں بعد میں بات کروں گا لیکن کولن پاؤل نے اصرار کیا کہ میں میٹنگ چھوڑ کر ان سے بات کروں۔ انہوں نے صاف صاف لفظوں میں کہا یا آپ ہمارے ساتھ ہیں یہ ہمارے خلاف۔‘

اخبار کے مطابق صدر مشرف نے لکھا ہے کہ کولن پاؤل سے ان کی گفتگو کے بعد امریکہ میں موجود آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ایک ملاقات میں رچرڈ آرمیٹیج نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائےگا۔

پاکستان کے صدر جنرل مشرف کی کتاب کے کچھ حصے پڑھنے والے پاکستانی صحافی حامد میر نے ان حصوں کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ’ اس کتاب میں انہوں نے (جنرل مشرف) کارگل پر زیادہ توجہ دی ہے اور خود کو کارگل کا ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے جنگ جیت لی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو ننانوے میں کارگل کی جنگ کے حوالے سےجنرل مشرف نے بار بار اس میں فریڈم فائٹر کا اور مجاہدین کا لفظ استعمال کیا ہے۔

آرمٹیج کی دھمکی، پاول کی باتیں
 جنرل مشرف نے لکھا ہے: ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد کو رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان پر بمباری کی دھمکی دی تھی اور اسی قسم کی باتیں میں ان سے کولن پاول نے بھی کی تھیں

تبصرہ نگار کے مطابق اس کتاب میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور انہیں آٹو کریٹ کہا گیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف نواز شریف اور شہباز شریف کے بارے میں سخت باتیں کی ہیں بلکہ ان کے والد کے بارے میں بھی مضحکہ خیز انداز میں انگریزی میں ابا جی کا لفظ استعمال کیا ہے‘۔

’اس کے علاوہ ایک بڑا سوال پیدا ہو جائے گا کہ فوجی وردی میں موجود ایک جنرل جو سرکاری ملازم ہے وہ کس طرح ایک کتاب لکھ سکتا ہے‘۔

نواز اور مشرف
کارگل میں جنرل مشرف اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو ایک خودکار مشین دکھا رہے ہیں 12 اکتوبر کی صبح نواز شریف نے مشرف کی سبکدوشی کا حکم جاری کیا اور شام کو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا

حامد میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں ایک انتہائی اہم بات لکھی ہے کہ ’I can also say with authority that in 1999 our nuclear capability was not yet operational. ’

’یہ پاکستان کا ایک ’سٹیٹ سیکرٹ‘ ہے اور ایک حاضر سروس آرمی چیف کہہ رہا ہے کہ 1999 میں پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت آپریشنل نہیں تھی اگر انڈیا حملہ کر دیتا تو پاکستان جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اب اگر موجودہ آرمی چیف جو سرکاری ملازم بھی ہے اس طریقے سے کتاب میں اس طرح کی باتیں لکھے گا تو کل کوئی بھی فیڈرل سیکریٹری کتاب لکھ سکتا ہے، اور اسے کوئی روک نہیں سکے گا۔‘

شہباز شریف
جنرل مشرف نے شہباز شریف کا ذکر بڑے تضحیک آمیز انداز میں کیا ہے

صحافی کے مطابق انہوں نے اس کتاب میں ایک جگہ لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی کے حوالے سے 12 اکتوبر 1999 کا واقعہ لکھا ہے۔ کرنل شاہد وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں گھس گئے اور انہوں نے وہاں وزیراعظم اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے صفحہ 161 پر لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب شاہد نے سب کو ڈیٹین کر لیا تو شہباز شریف غائب تھے اور جب انہوں نے شہباز شریف کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ باتھ روم میں گھسے ہوئے ہیں۔ تو انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا اور جب شہباز شریف باہر نہیں آئے تو لیفیٹیننٹ کرنل شاہد علی نے شاؤٹ کیا اور جب شہباز شریف کو باہر نکالا تو شہباز شریف اس وقت فلش آؤٹ کر رہے تھے۔ انہوں نے شہباز شریف کا ذکر بڑے تضحیک آمیز انداز میں کیا ہے‘۔
مشرفوعدہ خلافی کے عادی
مشرف کی وردی پر واشنگٹن پوسٹ کی تنقید
مشرفامریکہ کا دوست
امریکہ نے جنرل مشرف کو اپنا دوست قرار دیا ہے
ملاقاتیہ ملاقات ہوئی
کیوں ہوئی، کیسے ہوئی، کیسی ہوئی؟
صدر مشرفصدرمشرف یا کمانڈو
پنڈی میں صدر مشرف سے ملاقات کا احوال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد