BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جواب کتاب میں ملے گا؟

جواب کتاب میں ہوگا؟
صدر بش نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ جائیں کتاب خرید کر پڑھیں۔
جب مصنفین کتاب لکھتے ہیں تو اس کے فروغ کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کسی صدر نے اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے سرکاری دورے یا اخباری کانفرنس کا استعمال کیا ہو۔

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر بش اور جنرل مشرف کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کچھ یہی دیکھنے کو ملا۔

جب دونوں سے سوال جواب کے سلسلے کے دوران پوچھا گیا کہ صدر مشرف کا یہ حالیہ بیان کس حد تک درست ہے کہ امریکہ نے گیارہ ستمبر کے حلموں کے بعد پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو امریکہ پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے، تو جنرل مشرف نے یہ کہہ کر اس پر بات کرنے سے انکار کیا کہ وہ اس موضوع پر اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے پہلے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

صدر بش نے بعد میں مسکراتے ہوئے وائٹ ہائوس میں موجود صحافیوں کو مشورہ دیا کہ جائیں کتاب خرید کر پڑھیں۔

تاہم صدر بش کا کہنا تھا کہ جہاں تک انہیں یاد ہے امریکہ نے گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد پاکستان پر حملہ کی دھمکی نہیں دی تھی۔ امریکی صدر نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد انہیں جلد ہی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے آ کر بتایا تھا کہ جنرل مشرف حالات کی نزاکت جانتے ہیں اور انہوں نے ہمارا ساتھ دینے کی پیشکش کی ہے۔

صدر بش نے کہا کہ وہ پاکستان پر امریکی حملے کی دھمکی کا سن کر حیران رہ گئے۔’میں نے یہ بات آج ہی اخبار میں پڑھی ہے۔ میں اس بیان میں استعمال کی گئی زبان پر حیران رہ گیا۔‘

صدر جارج بش نے پاکستان کے فوجی حکمران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا اور خود بھی دہشت گردوں کے نشانہ میں آ ئے۔ امریکی صدر نے کہا کہ جنرل مشرف نے پاکستان میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

صدر جنرل مشرف نے وزیرستان میں قبائلی سرداروں کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بارے میں کہا کہ یہ معاہدہ طالبان کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ صدر مشرف نے ان خدشات کو رد کیا کہ اس معاہدے کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن جائیں گے۔

صدر مشرف نے اسامہ بن لادن کی تلاش کرنے والے امریکی فوجیوں کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں کاررائیوں کی اجازت دینے کے بارے میں کہا: ’ہم دونوں ان کی تلاش کر رہے ہیں اور اگر ہمیں ان کے ٹھکانے کا پتہ چل گیا تو ہم دونوں کو پتہ ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔‘

صدر جارج بش نے دو روز پہلے ایک امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک کو انٹریو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ کو یقین ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں موجود ہیں تو امریکہ ان کے ٹھکانے پر براہِ راست حملہ کر سکتا ہے۔ جواب میں صدر مشرف نے واضح کیا ہے کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گیا۔

صدر مشرف نے کہا کہ شدت پسندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیئے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور امریکی صدر جارج بش بھی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

صدر مشرف نےامریکی ٹی وی، سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی دھمکی تب کے نائب سیکریٹری خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے ان کے انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے توسط سے ان تک پنہچائی تھی۔

سابق امریکی نائب سیکریٹری خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے پاکستان کو سخت نوعیت کا پیغام ضرور دیا تھا۔ لیکن رچرڈ آرمیٹیج نے کہا ہے کہ جس قسم کی زبان کے استعمال کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ درست نہیں۔

صدر بش پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑا حلیف کہتے ہیں۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد مشرف حکومت نے یہ کہہ کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ملک کے اپنے مفاد میں کیا ہے۔ یہ شاید پہلی بار ہے کہ جنرل مشرف کھل کر اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ انہوں نہ جو کچھ کیا سخت امریکی دباؤ کے تحت کیا۔

جنرل مشرف نے کہا کہ ایک مرحلے پر امریکہ نے ان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے اندر ان مظاہروں کو کچلیں جن میں امریکہ کے خلاف حملوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ صدر مشرف کا یہ انٹرویو اتوار چوبیس ستمبر کو نشر ہو گا۔

اسی بارے میں
دھمکی کا سن کر حیرت ہوئی: بش
22 September, 2006 | پاکستان
مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل
22 September, 2006 | پاکستان
کبھی دھمکی نہیں دی: آرمیٹیج
22 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد