BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھمکی کا سن کر حیرت ہوئی: بش

مشرف، بش
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم حمایتی تصور کیا جاتا ہے
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد پاکستان پر حملہ کی دھمکی نہیں دی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں صدر جنرل مشرف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا جہاں تک انہیں یاد ہے امریکہ نے پاکستان پر حملہ کی کوئی دھمکی نہیں دی تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس وقت کے وزیر خارجہ کولن پاؤل نے بتایا تھا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جس نے رضا کارانہ طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی پیشکش کی ہے۔

صدر بش نے کہا کہ وہ پاکستان پر امریکی حملے کی دھمکی کا سن کر حیران رہ گئے۔’میں نے یہ بات آج ہی اخبار میں پڑھی ہے۔ میں اس بیان میں استعمال کی گئی زبان پر حیران رہ گیا‘۔

صدر مشرف نے اس موقع پر کہا کہ ان کی کتاب شائع ہونے والی ہے اور اس موقع پر مزید نہیں کہنا چاہیں گے۔

امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کے فوجی حکمران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا اور دہشت گردوں کے نشانہ میں آ گئے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ جنرل مشرف نے آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

صدر جنرل مشرف نے وزیرستان میں قبائلی سرداروں کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بارے میں کہا کہ یہ معاہدہ طالبان کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ صدر مشرف نے ان خدشات کو رد کیا کہ اس معاہدے کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن جائیں گے۔

صدر مشرف نے اسامہ بن لادن کی تلاش کرنے والے امریکی فوجیوں کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں کاررائیوں کی اجازت دینے کے بارے میں کہا: ’ہم دونوں ان کی تلاش کر رہے ہیں اور اگر ہمیں ان کے ٹھکانے کا پتہ چل گیا تو ہم دونوں کو پتہ ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے‘۔

صدر مشرف نے کہا شدت پسندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیئے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور امریکی صدر جارج بش بھی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

صدر جارج بش نے دو روز پہلے ایک امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک سے انٹریو میں واضع کیا ہے کہ اگر امریکہ کو یقین ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں کہیں موجود ہیں تو امریکہ ان کے ٹھکانے پر براہِ راست حملہ کر سکتا ہے۔ جواب میں صدر مشرف واضع کیا ہے کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گیا۔

حالیہ اختلافی بیانات سے دونوں رہنماؤں اور دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صدر بش اور صدر مشرف کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے میں جو باتیں شامل رہیں گی ان میں پاکستانی فوج کا شمالی وزیرستان میں قبائلی عمائدین کے ساتھ حالیہ امن معاھدہ، پاک افغان تعلقات اور پاکستان میں حدود قوانین میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

امریکی صدر اور پاکستان کے فوجی حکمران میں ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صدر مشرف نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حلموں کے بعد امریکہ نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو امریکہ پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔

صدر مشرف نےامریکی ٹی وی سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی دھمکی تب کے نائب سیکریٹری خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے ان کے انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے توسط سے ان تک پنہچائی تھی۔

سابق امریکی نائب سیکریٹری خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے پاکستان کو سخت نوعیت کا پیغام ضرور دیا تھا۔ لیکن رچرڈ آرمیٹیج نے کہا ہے کہ جس قسم کی زبان کے استعمال کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ درست نہیں۔

صدر بش پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑا حلیف کہتے ہیں۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد مشرف حکومت نے یہ کہہ کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ملک کے اپنے مفاد میں کیا ہے۔ یہ شاید پہلی بار ہے کہ جنرل مشرف کھل کر اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ انہوں نہ جو کچھ کیا سخت امریکی دباؤ کے تحت کیا۔

جنرل مشرف نے کہا کہ ایک مرحلے پر امریکہ نے ان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے اندر ان مظاہروں کو کچلیں جن میں امریکہ کے خلاف حملوں کی حمایت کی جاتی ہے۔صدر مشرف کا یہ انٹرویو اتوار چوبیس ستمبر کو نشر ہو گا۔

اسی بارے میں
’پاکستان کے شکرگزار ہیں‘
23 August, 2006 | پاکستان
مشرف کی صدر بش سے ملاقات
22 September, 2004 | صفحۂ اول
بش مشرف سے خوش
24 June, 2003 | صفحۂ اول
صدر مشرف کا بش کو فون
05 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد