صدر مشرف کا بش کو فون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہونے والے جارج ڈبلیو بش پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین سمیت دنیا کے مختلف دیرینہ تنازعات طے کرانے کے لیے کردار ادا کریں۔ جمعہ کے روز پاکستانی صدر نے امریکی صدر کو فون کیا اور انہیں دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ ایوان صدر کے حکام کے مطابق بیس منٹ کی گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی، علاقائی اور دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے امریکی صدر کو باضابطہ طور پر مبارکباد کا پیغام بھی بھیجا ہے۔ بیان کے مطابق صدر مشرف نے امریکی صدر سے کہا کہ دہشت گردی کی جڑیں ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فلسطین سمیت دیگر تنازعات ختم کرانے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ بیان میں کشمیر کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد جارج بش اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیاں یہ پہلا رابطہ ہے۔ بیس منٹ کی گفتگو کی مزید تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں البتہ جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون وسیع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ صدر بش کی دوسری بار کامیابی کو بعض مبصرین پاکستان اور باالخصوص صدر مشرف کے لیے فائدہ مند قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ امریکی صدر سے گزشتہ چند برسوں میں پیدا ہونے والی ہم آہنگی کی بنا پر دیگر امداد کے علاوہ ایف سولہ طیارے حاصل کرے جن کی فراہمی پر امریکہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||