BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 September, 2006, 21:08 GMT 02:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ نےحملے کی دھمکی دی‘

صدر مشرف
صدر مشرف نے کہا کہ رچرڈ آرمیٹیج کے بیان سے بہت تذلیل ہوئی تھی
صدر مشرف نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حلموں کے بعد امریکہ نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ نہ دیا تو امریکہ پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ صدر مشرف نے یہ انکشاف امریکی ٹی وی سی بی ایس کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ میں کیا ہے۔

سی بی ایس کے اسٹیو کرافٹ کو دیئے گئے اس انٹرویو میں صدر مشرف نے کہا کہ امریکی دھمکی تب کے نائب سیکریٹری خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے ان کے انٹیلیجنس ڈاریکٹر کے توسط سے ان تک پنہچائی۔: ’انٹیلیجس ڈائریکٹر نے مجھے کہا کہ (آرمیٹیج) کہہ رہے ہیں ہے کہ بمباری کے لیئے تیار ہوجائیں۔ واپس پتھر کے دور (اسٹون ایج) میں جانے کے لیئے تیار ہوجائیں‘۔

پتھر کے دور میں بھیج دیں گے
 ’انٹیلیجس ڈائریکٹر نے مجھے کہا کہ (آرمیٹیج) کہہ رہے ہیں ہے کہ بمباری کے لیئے تیار ہوجائیں۔ واپس پتھر کے دور (اسٹون ایج) میں جانے کے لیئے تیار ہوجائیں‘
صدر مشرف

جنرل مشرف نے کہا کہ اس سے انہیں تذلیل محسوس ہوئی۔ ’میرے خیال میں یہ جملہ بہت نامناسب تھا‘۔

سابق امریکی نائب سیکریٹری خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے پاکستان کو سخت نوعیت کا پیغام ضرور دیا تھا۔ لیکن رچرڈ آرمیٹیج نے کہا ہے کہ جس قسم کی زبان کے استعمال کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ درست نہیں۔

صدر بش اور صدر مشرف
صدر بش پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑا حلیف کہتے ہیں

لیکن انٹرویو میں جنرل مشرف کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کے ردِ عمل میں ذمہ داری سے کام لیا۔ ایسی صورتحال میں ’آ پ کو سوچ سمجھ کر اپنے ملک کے مفاد میں اقدامات کرنے ہوتے ہیں، اور میں نے یہی کیا‘۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد مشرف حکومت نے یہ کہہ کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ملک کے اپنے مفاد میں کیا ہے۔ یہ شاید پہلی بار ہے کہ جنرل مشرف کھل کر اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ انہوں نہ جو کچھ کیا سخت امریکی دباؤ کے تحت کیا۔

انٹرویو میں جنرل مشرف نے کھل کر بتایا ہے کہ امریکہ نے کس طرح پاکستان پر دہشتگردی کے خلاف مہم میں تعاون کے لیئے دباؤ ڈالا۔ ان کے مطابق امریکہ نے ان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدی چیک پوسٹیں اور فوجی اڈے ان کے حوالے کر دے، جو کہ انہوں نے نہیں کیا۔

رچرڈ آرمیٹیج
آرمیٹیج نے کہا ہے کہ ان کا پیغام سخت لہجے میں تھا لیکن زبان مختلف تھی

جنرل مشرف نے کہا کہ ایک مرحلے پر امریکہ نے ان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے اندر ان مظاہروں کو کچلیں جن میں امریکہ کے خلاف حملوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں تھے: ’اگر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے، ہم اسے کس طرح دبا سکتے ہیں‘۔

صدر مشرف کا یہ انٹرویو اتوار چوبیس ستمبر کو نشر ہو گا۔

جون سٹیورٹ فائرنگ کی زد میں
جون سٹیورٹ کے شو پر جنرل مشرف
نئی امریکی پالیسی
’ایران بڑا خطرہ، حملہ کرنے کا حق محفوظ‘
osamaمشرف کا اعتراف
’اسامہ بن لادن کا سراغ کھو چکے ہیں‘
بشامریکہ کے ’سرپرائزز‘
کیا بش کے دن گنے جاچکے ہیں؟
تاریخ دانوں کا فیصلہ
’صدر بش امریکی تاریخ کے بد ترین صدر ہیں‘
پال وولفو وٹزبش کےسپاہی
نئے قدامت پسند اپنے افکار کی تبلیغ کے مشن پر
اسی بارے میں
’پاکستان کے شکرگزار ہیں‘
23 August, 2006 | پاکستان
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد