 |  وولفوٹز نئے قدامت پسند خیالات کو عالمی بینک کی پالیسیوں کا حصہ بنائیں گے۔ |
امریکی صدر بش نے اسی ہفتے اپنے نائب وزیر دفاع پال وولفو وٹز کا نام عالمی بینک کے نئے صدر کے لئے نامزد کیا ہے۔ اس نامزدگی سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ صدر بش دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ عالمی ترقیاتی میدان میں بھی وہی پالیسیاں نافذ کرنا چاہتے ہیں جو ان کی خارجہ پالیسی کا حصہ تھیں۔ اس نامزدگی سے پہلے صدر بش نے اپنے ایک اور وفادار ساتھی جان بولٹن کو اقوام متحدہ میں سفیر مقرر کیا۔ یہ وہی جان بولٹن ہیں جنہوں نے ایک مرتبہ یہ کہا تھا کہ ’اگر نیو یارک میں موجود اقوام متحدہ کی بلڈنگ کی دس منزلیں گِر بھی جائیں تو دنیا پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘ بالکل ایسا ہی محسوس ہورہا ہے جیسے صدر بش اپنے سپاہیوں کو مخلتف مشنوں پر میدان جنگ میں بھیج رہے ہیں۔ مسٹر وولفو وٹز عراق پر جنگ کرنے کی پالیسی کے خالقوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے اصل میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد کیمپ ڈیوڈ پر ہونے والی ایک میٹنگ میں صدام حسین کی حکومت گرانے کی تجویز پیش کی تھی جو اس وقت تو رد کردی گئی تھی لیکن بعد میں اس پر عمل کیا گیا۔ مسٹر وولفو وٹز کا شمار ان مفکروں میں بھی ہوتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے پھیلاؤ پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے جنگ تک کرنے کا پرچار کرتے ہیں۔اور خیال یہی ہے کہ وہ نئے قدامت پسند یا نییو کنزرویٹو خیالات کو عالمی بینک کی پالیسیوں کا حصہ بنائیں گے۔ یعنی سرمایہ کاری کا پھیلاؤ، حکومتوں کا معاشرے میں کم سے کم رول، جمہوریت، اور آزاد منڈی کی ترویج۔ لیکن ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ان خیالات کے پیچھے دنیا میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانا بھی شامل ہے۔
 |  عالمی بینک کے مشن یعنی دنیا سے غربت کے خاتمے اور مسٹر وولفو وٹز کے نئے قدامت پسند خیالات میں کچھ ٹکراؤ بھی ممکن ہے۔ |
عالمی بینک کے مشن یعنی دنیا سے غربت کے خاتمے اور مسٹر وولفو وٹز کے نئے قدامت پسند خیالات میں کچھ ٹکراؤ بھی ممکن ہے۔ لیکن جو بھی ہو اپنی نامزدگی کے بعد ایک بیان میں مسٹر وولفو وٹز نے عالمی بینک کے صدر بننے میں دلچسپی کے جو وجوہات بتائیں اس سے ان کا امیج بہتر ہوا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ حال ہی میں انڈونیشیا اور سری لنکا میں سونامی کے سمندری طوفان سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر ان کے دل میں اس خواہش نے جنم لیا کہ لوگوں کی مدد کا بیڑا اٹھایا جائے۔مسٹر وولفو وٹز پینٹا گون سے ایک ایسے موقع پر جارہے ہیں جب ان کے ایک اور ساتھی ڈگلس فیتھ بھی وہاں سے جارہے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ اب پینٹاگون میں نئی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائں کے لئے راستہ بالکل صاف ہورہا ہے۔ |