عالمی بینک کےلئے بش کے امیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے اپنے نائب وزیر دفاع پال وولفووٹز کو عالمی بینک کے اگلے صدر کے طور پر نامزد کیا ہے۔ مسٹر وولفو وٹز نے، جو عراق کی جنگ کے بڑے حامیوں میں تھے، اپنی نامزدگی کے بعد کہا ہے کہ وہ بینک کے ’نیک مشن‘ کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس بات کے امکانات ہیں کہ مسٹر وولفو وٹز کی نامزدگی، جو ایک سخت گیر نظریات والے سیاستدان مانے جاتے ہیں، متنازعہ بن جائے۔ مسٹر وولفو وٹز صدر بش کے اس قریبی حلقے کے رکن مانے جاتے ہیں جو دنیا میں امریکی اقدار کو پھیلانے کے لئے سخت گیر اور جارحانہ طریقہ کار کی حمایت کرتے ہیں۔ ابھی تک صرف برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے اس نامزدگی کا خیر مقدم کیا ہے۔ عالمی بینک میں ایک سو چوراسی رکن ممالک ہیں اور صدر کا انتخاب بینک کا بورڈ کرتا ہے۔ لیکن جیسے آئی ایم ایف کے سربراہ کی نامزدگی یورپ کی طرف سے کی جاتی ہے اور عموماً منظور کرلی جاتی ہے ویسے ہی عالمی بینک میں بھی صدر کے لئے امریکہ کی طرف سے نامزد امیدوار منظور ہوجاتا ہے۔ تاہم ایسی مثال بھی موجود ہیں جب نامزد امیدوار کو ویٹو کردیا گیا ہو جیسے سن دو ہزار میں آئی ایم ایف کے سربراہ کے لئے یورپ کے امیدوار چائیو کوچویزر کو امریکہ نے ویٹو کردیا تھا۔ خود عالمی بینک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حتمی فیصلہ اس کے بورڈ کے اراکین کریں گے اور وہ اس معاملے میں ابھی اپنے رکن ممالک سے صلح مشورہ کررہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||