پینٹاگون ایک اور سکینڈل کی زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان دنوں واشنگٹن میں سب سے زیادہ موضوعِ بحث یہ تحقیقات ہیں کہ پینٹاگون کے ایک اہلکار نے خفیہ امریکی دستاویزات اسرائیل کو مہیا کی ہیں۔اگرچہ شروع میں تمام تر ذمہ داری صرف لیری فرینکلن نامی ایک ایجنٹ پر ڈالی گئی تھی لیکن سٹار ٹیلی گرام ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ نے کہا ہے کہ اب اس پر کی جانے والی تحقیق کا دائرہ کار وزیرِ دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کے دفاتر تک وسیع کردیا گیا ہے۔ لیری فرینکلن پینٹاگون میں مشرقِ قریب اور جنوبی ایشیا کے ڈیسک آفیسر ہیں اور پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصے سے امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی ان کی نگرانی کرتی رہی ہے۔ انہیں رمزفیلڈ کے ایک اہم ایڈوائزر ڈگلس فیتھ کا قریبی ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ ڈگلس فیتھ نے نائب وزیرِ دفاع پال وولفووٹز کے ہمراہ عراق پر امریکی قبضے کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکی میگزین نیوز ویک میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق لیری فرینکلن نے ایران سے متعلق خفیہ امریکی دستاویزات اسرائیل کو فراہم کیں اور ان پر اس سلسلے میں مقدمہ قائم کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ انیس سو ستاسی کے بعد یہ پہلی دفعہ ہے کہ کسی امریکی اہلکار نے اسرائیل کو اہم خفیہ دستاویزات فراہم کی ہوں۔ انیس سو ستاسی میں جوناتھن پولارڈ نامی ایک امریکی نے اسرائیل کو امریکی نیوی کے متعلق خفیہ دستاویزات فراہم کی تھیں اور ان الزامات کے ثابت ہونے کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
تاہم اسرائیلی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے ایک دوست کی جاسوسی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نیوز ویک کے مطابق ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چلایا جا سکا کہ لیری فرینکلن نے دراصل اسرائیل کو کیا معلومات مہیا کی ہیں تاہم ایف بی آئی کے مطابق انہوں نے ایران سے متعلق پینٹاگون کے خفیہ دستاویزات ایک اسرائیلی سفارت کار کے حوالے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کو ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے بارے میں ہمیشہ تشویش لاحق رہی ہے اور اسرائیل نے ماضی میں خبرادار کیا تھا کہ اگر اسے یقین ہوا کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے تو وہ حفظِ ماتقدم کے طور پر ایران کے خلاف فضائی حملہ کر سکتا ہے۔ ایران نے ایسی کسی بھی صورت میں جوابی حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔
اگرچہ اس وقت ایف بی آئی اور امریکی عدلیہ کے اہلکار ان تمام حقائق و شواہد کا تجزیہ کررہے ہیں جن کے تحت لیری فرینکلن کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے گا تاہم نیوز ویک کے مطابق کچھ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جاسوسی کے یہ الزمات قبل از وقت ہیں اور لیری فرینکلن کے بارے میں کوئی حتمی شواہد اکٹھے کیے بغیر ان کا منظرِ عام پر آنا اچھا نہ ہوگا۔ امریکی حکام نے نیوز ویک کو تصدیق کی کہ لیری فرینکلن ایک مہینہ قبل ایف بی آئی کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔ تاہم لیری فرینکلن کا اصرار تھا کہ ان سے ’اوپر کسی کو ان حرکات کا علم نہیں تھا‘۔ ابھی تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ آیا اسرائیل نے لیری فرینکلن کو ان خدمات کا کوئی معاوضہ بھی ادا کیا یا نہیں بلکہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ لیری فرینکلن نے یہ معلومات اپنے نظریات کی وجہ سے فراہم کیں۔ نیوزویک کو ان حکام نے بتایا کہ ’یہ شخص ایران سے شدید نفرت کرتا ہے‘۔ ان تحقیقات کے نتائج کچھ بھی نکلیں، نیوز ویک کے مطابق اس سکینڈل کے منظرِ عام پر آنے کا وقت وزیرِ دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کے لئے اس سے برا نہیں ہوسکتا۔ اس ہفتے نہ صرف میں عراق میں پرتشدد کاروائیاں جاری رہیں بلکہ پینٹاگون کی دو تحقیقاتی رپورٹس میں ابوغریب کی جیل کے واقعات کی بلا واسطہ ذمہ داری بھی ڈونالڈ رمزفیلڈ پر ہی ڈالی گئی ہے۔ یہ الزمات صدر بش کے لیے بھی برے ثابت ہوئے ہیں جن کی انتخابی مہم اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ نیوز ویک کے مطابق تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ شاید ان دستاویزات کی چوری قومی سلامتی کے لیے اتنی بری ثابت نہ ہو جتنی کہ صدر بش اور پینٹاگون کے لیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||