BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 May, 2006, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا بش کے دن گنے جاچکے ہیں؟

بش
بش کے لیئے سیاست کے افق پر بادل ہی بادل
امریکی صدر بش اپنی وائٹ ہاؤس ٹیم میں ردو بدل کررہے ہیں۔ شاید اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر، جوکہ بہت تیزی سے ڈوبتی نظر آرہی ہے۔ لیکن اب ایسا کرنے کے لیئے بہت دیر ہوچکی ہے، بیشتر امریکی، صدر بش کو ابھی سے ہی ماضی کا حصہ سمجھنے لگے ہیں۔

حال ہی میں میرا اوہایو جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے کلیو لینڈ کے ان نواحی علاقوں میں قیام کیا جہاں ہر امریکی شہر کے نواح کی طرح علاقے کے امیر ترین طبقے کا بسیرا ہے۔

میں خواتین کے ایک گروپ سے ملا جن میں اخبارات کی مالکان، کوئلے کی کانوں کی مالکان، وکلاء یا پھر مقبول ترین وکلاء کی بیویاں شامل تھیں۔ ایک خاتون کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنی دولت کا کیا کریں۔ وہ کہتی تھیں کہ میں جتنا خرچ کرتی ہوں یا سرمایہ کاری کرتی ہوں یہ اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔

یہ وہ امریکی ہیں جن کی رائے وزن رکھتی ہے اور جنہوں نے زندگیوں میں بہت کچھ حاصل کرلیا ہے۔

اور یہی وہ لوگ ہیں جو بش کے حامی نہیں ہیں۔

لیکن صرف یہی نہیں، ریپبلکنز اور ڈیمو کریٹس بھی کھلے طور پر بش کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔

غیر قانونی تارک وطن کا پیغام
ایک ایسا شخص جو ابھی خود بھی امریکی شہریت نہیں رکھتا بلکہ غیر قانونی تارک وطن ہے، یہ پیغام دے رہا ہے کہ مستقبل میں بھی وہی کامیاب ہوگا جو بش کی طرح ابارشن حقوق اور ہم جنس پرستی کے خلاف ہو۔

ان لوگوں کے لیئے صدر کا دفاع کرنا اب اتنا اہم نہیں رہا کہ اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔ وہ ایسا مستقبل چاہتے ہیں جس میں جنگوں کا غلط استعمال نہ کیا جائے اور ملکی پیسے کا غیر ضروری چیزوں پر بے دریغ استعمال نہ ہو۔

کلیو لینڈ چھورتے وقت جو چیز میرے ذہن میں یقینی ہوچکی تھی وہ یہ کہ صدر بش کے دن اب گنے جاچکے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی کیرولینا کے دورے کی داستان ہے۔ وہاں میں ایک غیر قانونی تارک وطن لارلوس سے ملا۔ وہ کہنے لگا کہ بش جان کیری سے بہتر ہیں کیونکہ کیری ابارشن (اسقاط حمل) کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک ایسا شخص جو ابھی خود بھی امریکی شہریت نہیں رکھتا بلکہ غیر قانونی تارک وطن ہے، یہ پیغام دے رہا ہے کہ مستقبل میں بھی وہی کامیاب ہوگا جو بش کی طرح ابارشن حقوق اور ہم جنس پرستی کے خلاف ہو۔

صدر بش کے لیئے اب شاید اپنی صدارت بچانا ممکن نہیں رہا۔ اخبارات کی سرخیاں چیخ رہی ہیں ’بش بس ختم‘ اور لگتا بھی یہی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ سچ ثابت ہونے والا ہے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ ’سرپرائزز‘ کی سرزمین ہے۔

اسی بارے میں
'تاریخ کا بدترین صدر'
09 May, 2006 | آس پاس
غیرقانونی امریکیوں کا مستقبل؟
10 April, 2006 | قلم اور کالم
جب بُش نے مچھلی پکڑی
07 May, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد