BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 April, 2006, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرقانونی امریکیوں کا مستقبل؟

مختلف شہروں میں جلسے جلوس اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں
امریکہ میں پچھلے چند ہفتوں سے غیر قانونی تارکین وطن اور ان کے حقوق کے مسئلے پر نہ صرف سیاسی حلقوں میں ایک گرماگرم بحث چھڑی ہوئی ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی مختلف شہروں میں جلسے جلوس اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہے کیا جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

امریکہ میں فی الوقت قریبًا ایک کروڑ پندرہ لاکھ کے قریب غیر قانونی تارکین وطن رہتے ہیں اور ہر سال پانچ سے دس لاکھ مزید لوگ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر امریکہ کی میکسیکو سے ملنے والی 2000 ہزار میل لمبی جنوبی سرحد سے داخل ہوتے ہیں۔

امریکہ میں غیر قانونی طور پر آنے والوں میں سے اکثر کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں جو کسی خاص کام میں ماہر بھی نہیں ہوتے۔ مگر یہاں آ کر وہ کم تنخواہ میں وہ کام کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں جنہیں خود امریکی نہیں کرنا چاہتے، یا کم از کم اتنے کم پیسوں میں کرنے پر تیار نہیں۔ مثلًا ریاست کیلی فورنیا میں زراعت کا بڑا دارومدار انہیں لوگوں پر ہے۔

یہ لوگ سالوں تک امریکی سیاست میں ایک خاموش تماشائی تھے۔ ایک تو خود یہ تارکین وطن اس لیے آواز اٹھانے یا کچھ کہنے سے ڈرتے تھے کہ وہ مشکل میں نہ پڑ جائیں اور امریکہ سے نکالے نہ جائیں اور دوسرا چونکہ ان لوگوں کے پاس ووٹ ڈالنے کا حق نہیں اس لیے سیاست دانوں نے بھی کبھی اس کی ضرورت نہ سمجھی کہ ان کے مسائل یا ضروریات کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تین چیزوں میں تبدیلی آئی۔ ایک تو امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ وہ ایک اہم طاقت کے طور پر سامنے آ سکیں، دوسرا یہ کہ ان کے بچے جو امریکہ میں پیدا ہوئے وہ امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق ہے، اس کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن میں سے اکثر کے رشتہ دار امریکی شہری ہیں جس سے انہیں بالواسطہ سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے اور سب سے اہم تبدیلی یہ آئی کہ سیاستدانوں، خصوصًا ریپبلکن پارٹی کو اندازہ ہوا کہ امریکہ میں اب محض سفید فام اکثریت پر تکیہ کر کے انتخابات جیتنا ممکن نہیں رہا۔

سن 2001 میں جب امریکی صدر بش نے اقتدار سنبھالا تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ امیگریشن یا غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کو خصوصی توجہ دی جائے گی۔ امریکہ کے کاروباری طبقے کا دباؤ تھا کہ امریکہ نقل مکانی کرنے والوں کے لیے قوانین نرم کیے جائیں کیونکہ وہ امریکہ میں کم تنخواہ میں ایسے کام کرنے کو تیار ہیں جو امریکی خود نہیں کرنا چاہتے۔

ڈلاس
ڈلاس کے مظاہرین

لیکن گیارہ ستمبر سن 2001 کے حملوں کے بعد ملک میں ماحول بدل گیا۔ ان حملوں میں ملوث افراد قانونی طور پر طالب علم یا ٹورسٹ کی حیثیت سے امریکہ آئے تھے۔ اس سے امریکیوں میں یہ تاثر عام ہو گیا کہ ملک کی سرحدیں محفوظ نہیں اور ملک میں داخلہ ضرورت سے زیادہ آسان ہے۔ امریکی کانگرس میں دونوں ہی سیاسی جماعتوں نے اسے ملکی سلامتی کا مسئلہ گردانا اور اس سلسلے میں سختی برتنے پر زور دیا۔

پچھلے سال کے اختتام پر امریکی ایوان نمائیدگان یا ہاؤس آف ریپریزینٹیٹیوز نے ایک ایسا بل پاس کیا جس میں امریکہ میں مقیم تمام غیر قانونی تارکین وطن اور ان کی امداد کرنے والوں کو مجرم قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر ایک 700 سات سو میل لمبی باڑ لگانے کی بات کی گئی۔

اس بل نے لاطینی امریکی ممالک اور امریکہ میں مقیم لاطینی حلقوں میں ایک تہلکہ سا مچا دیا۔ اس بل کو پاس ہونے کے لیے امریکی سینیٹ سے گزرنا تھا۔ گیارہ لاطینی امریکی ممالک سے آنے والوں نے نے سینیٹ میں اس بل پر بحث سے پہلے اس کے خلاف عوامی رائے کو بدلنے کی مہم چلانے کے لیے آپس میں تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔

لاس اینجلس
لاس اینجلس

لاطینی امریکہ سے امریکہ آنے والوں کی ایک بڑی تعداد رومن کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ امریکہ میں چرچ اور خصوصًا رومن کیتھولک چرچ ان غیر قانونی تارکین وطن کے ایک بڑے حامی کے طور پر سامنے آیا اور اس نے اپنے ممبران کو اس بل کے خلاف آواز اٹھانے کی تاکید کی۔ امریکی ہاؤس کے بل کی وجہ سے غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کرنے والے راہب یا پریسٹ بھی مجرم قرار دیے جا سکتے ہیں۔

صدر جارج بش چاہتے ہیں کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو عارضی طور پر یہاں کام کرنے کے ویزے دے دیے جائیں۔ لیکن وہ ان لوگوں کو شہریت دینے کے خلاف ہیں۔

امریکی سینیٹ کی جوڈشری کمیٹی نے اس سلسلے میں ہاؤس کے بر عکس ایک ایسے بل کی تجویز پیش کی جس میں غیر قانونی تارکین وطن کو امریکی شہریت ملنے کا امکان ہو لیکن اس بل پر پوری سینٹ میں ووٹ سے پہلے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں میں سمجھوتہ ضروری ہے۔

پچھلے ہفتے یہ امکان نظر آیا کہ سینیٹ ایک ایسے بل پر اتفاق کر لے جس میں مندرجہ ذیل شقیں ہوں:
جو لوگ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے امریکہ میں ہیں وہ اگر اپنے ٹیکس اور جرمانہ ادا کر دیں اور انگریزی زبان کا امتحان پاس کرلیں تو امریکی شہریت کے حقدار ہوں گے۔

جو لوگ دو سے پانچ سال کے عرصے سے امریکہ میں ہیں انہیں ورک ویزا یا امریکہ میں قانونی طور پر کام کرنے کا ویزا دے دیا جائے لیکن یہ ویزا انہیں سرحد پر جاکر پورٹ آف انٹری یا اس شہر سے لینا پڑے گا جہاں سے وہ امریکہ داخل ہوں گے۔

جو لوگ دو سال سے کم عرصے سے امریکہ میں ہیں انہیں امریکہ سے واپس اپنے ملک جا کر دوبارہ ویزا کے لیے درخواست دینی ہوگی۔

اریزونا
اریزونا کے مظاہرین

امید کی جارہی تھی کہ یہ بل منظور ہو جائے گا لیکن ڈیموکریٹ اور ریپبلکن پارٹی کے ارکان میں اس بل کے مندرجات پر اتفاق نہ ہو سکا اور اس پر کرایا گیا ایک ٹیسٹ ووٹ ناکام ہوگیا۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اس بل پر سمجھوتہ کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس بل کے حامی کہتے ہیں کہ امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن اس ملک کی معیشت کا ایک لازمی حصہ ہیں اور ان کے بغیر امریکی کاروبار ٹھپ ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ چرچ، انسانی بنیادوں پر بھی ان لوگوں کی مدد کرنے کے حق میں ہے۔

اس بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کو شہریت دینے کا مطلب ہے کہ قانون توڑنے والوں کو انعام دیا جائے اور یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہو گی جو قانونی طور پر امریکہ آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکی سینیٹ میں زیر بحث بل پاس بھی ہو گیا تو بھی امریکی صدر کو دستخط کے لیے بھیجنے سے پہلے ہاؤس اور سینیٹ کو ایک ہی مسئلے پر دو بالکل مختلف بلوں میں کوئی درمیانہ راستہ نکالنا پڑے گا۔

امریکی تحویل میں افغانی قیدیسو قیدی ہلاک
امریکی تحویل میں ہلاکتوں کی رپورٹ
پروفیسر وارڈامریکی نازی پالیسی
پروفیسر وارڈ کیا کہتے ہیں: حسن مجتبیٰ کا کالم
حقیقی شناخت ایکٹ
نیا امریکی بِل تارکین وطن کیلئے وبال جان
تارکین وطنغیر قانونی تارکین وطن
’شاید مشکلات کے خاتمے کا وقت آیا چاہتا ہے‘۔
بھارتی سافٹ ویر کے ماہرین کا مسئلہبھارتی ماہرین کا مسئلہ
امریکی ویزوں میں کمی کا بھارت پر اثر
اسی بارے میں
نیو یارک کے ٹھیلے والے
26 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد