نیو یارک کے ٹھیلے والے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان یا بھارت کے چھوٹے بڑے کسی بھی شہر میں چلے جائیں، کھانے پینے کے ٹھیلے عام مل جائیں گے۔ چکڑ چھولے ہوں یا نان حلیم، چٹ پٹی چاٹ ہو یا بھیل پوری، تکے ہوں یا دال روٹی ہر چیز بازار میں ٹھیلوں پر دستیاب ہے اور چھوٹے بڑے، امیر غریب سب ہی اس غذا سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔ مغربی دنیا عمومًا اس نعمت سے محروم ہے۔ سوائے ایک شہر کے۔ وہ شہر ہے نیو یارک۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی طرح نیو یارک کی سڑکوں پر بھی دن نکلتے ہی کچھ لوگ اپنے اپنے ٹھیلے جنہیں امریکی زبان میں پُش کارٹ کہا جاتا ہے، لے کر نکل آتے ہیں اور طرح طرح کے پکوان بیچتے نظر آتے ہیں۔ کوئی ہاٹ ڈاگ کا ٹھیلا لگائے بیٹھا ملتا ہے تو کوئی شیش کباب کا۔ کسی کے پاس ٹھیلے میں چکن جائرو ہے تو کسی کے پاس دنبے کے تکے۔ ان میں سے بیشتر عربی یا ترکی ہیں۔ مصریوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ مگر کافی دیسی، خصوصًا پاکستانی اور بنگلہ دیشی بھی ان ٹھیلے والوں میں شامل ہیں۔ ان کے کھانوں میں مشرق وسطٰی کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ دیسی کھانوں کے ذائقے کی جھلک ملتی ہے۔
’مجھے کام کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ میں یہاں پر عزت سے کام کر رہا ہوں۔ کسی دیسی کی مجھے ٹینشن نہیں ہے جو تنگ کرتے ہیں کہ یہ کرو وہ کرو۔‘ شاہد کا کہنا ہے کہ کھانا پکانا ان کا شوق ہے اور وہ پاکستان ہی سے کھانا پکانا سیکھ کر یہاں آئے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کام کھانے کے شوق میں نہیں بلکہ اس شوق میں کرتے ہیں کہ انہیں دفتر کے بند ماحول سے چھٹکارہ اور نیو یارک جیسے پر رونق شہر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔ خلید ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔ ان کا تعلق مصر سے ہے اور وہ دو سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت اچھا کام ہے۔ مجھے سڑک پر کھڑے ہو کر ہجوم کو دیکھنے کا شوق ہے۔ ویسے بھی مین ہیٹن زبردست جگہ ہے۔ زبردست تو نیو یارک ضرور ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک ایسا شہر بھی ہے جہاں ہر گلی میں ہی نہیں ہر چند قدم پر ایک ریستوران یا کیفے موجود ہے۔ ایسے میں ان ٹھیلے والوں کے پاس لوگ اس لیے جاتے ہیں کہ ان کی خوراک ذائقے میں مزیدار ہونے کے علاوہ قیمت میں بھی کافی کم ہے۔ بورژانا مین ہیٹن میں کام کرتی ہیں اور اکثر ایک مصری مگدی شاہین کے ٹھیلے سے چکن کباب اور چاول لے کر کھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کھانے کی قیمت یہاں آنے کا ایک بڑا سبب ہے۔ یوں سمجھیے کہ اگر ایک شخص ایک سستے ریستوران میں آٹھ یا دس ڈالر میں کھانا کھا سکتا ہے تو ایک ٹھیلے سے وہ پیٹ بھر کر چار ڈالر میں کھانا کھا سکتا ہے۔ قیمت اور ذائقہ سب صحیح، اپنا کام کرنے کا مزہ بھی اپنی جگہ، لیکن دنیا کے ہر کام کی طرح اس کام کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ مگدی شاہین بارہ سال سے یہ کام کر رہے ہیں اور آج کل کافی پریشان ہیں۔ ہر چیز کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے اور وہ اس ڈر سے قیمت نہیں بڑھا سکتے کہ ان کے گاہک نہ ٹوٹ جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کام میں منافع دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں کم از کم ٹھیلے والوں کے مسائل تو مشترک ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ میرا بھی تو ہے14.03.2003 | صفحۂ اول پاکستانی: ملک ملک زیر عتاب31.01.2003 | صفحۂ اول غیر قانونی تارکینِ وطن پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں17 December, 2005 | آس پاس پناہ ملی تو کہاں ملی10.02.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||