غیر قانونی تارکینِ وطن پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ایوانِ نمائندگان نے غیر قانونی تارکینِ وطن پر قابو پانے سے متعلق بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل میں امریکہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افراد اورغیر قانونی طور پر قیام پذیر تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔ امریکی کانگریس نے یہ بل 182 کے مقابلے میں 239 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا اور اب امریکی ایوان ِ بالا اس بل پر فروری میں بحث کرے گا۔ ایوانِ نمائندگان نے اس بل میں شامل تجاویز میں سے سرحدی دیوار کی تعمیر، تارکین وطن کو روکنے کے لیے فوج اور پولیس کا استعمال اور ملازمتوں کی کڑی نگرانی کی حمایت کی۔ رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن تھامس ٹنکراڈو کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے ملازمتوں کے حصول میں پیدا ہونے والے مشکلات سے امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں اپنے اپنے وطن جائیں گے اور جو نہیں جائے گا اسے ملک بدر کر دیا جائے گا‘۔
اس بل کے تحت امریکی آجروں کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ نوکری دیتے ہوئے اس بات کا یقین کریں کہ ملازم اس ملازمت کا اہل ہے یا نہیں اور اگر آجر جانتے بوجھتے غیرقانونی تارکین ِ وطن کو ملازمت دیں گے تو انہیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر قیام کو شہری قوانین کی خلاف ورزی کی بجائے ایک سنگین جرم قرار دیا جائے گا اور شناختی کاغذات میں ردوبدل پر سخت سزائیں دی جا سکیں گی۔ تاہم اس بل میں شامل اس شق کو منظور نہیں کیا گیا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی شہریت نہ دی جائے۔ اس بل کے تحت امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ایک جدید آلات سے لیس بار لگانے کی بھی تجویز ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ کیا ایسی ہی ایک باڑ امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر بھی لگائی جا سکتی ہے؟ اس بل کی منظوری پر میکسیکو کے صدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صرف سکیورٹی سے ہی امیگریشن کے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں میکسیکو کی سرحد کو ’محفوظ‘ بنانے پر ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میکسیکو سے تعلق رکھنے والے افراد امریکی معیشت کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ میکسیکو کے صدر نے جمعہ کو امریکی امیگریشن پالیسی کو شرمناک قرار دیا تھا۔ بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس بل میں شامل تمام اقدمات پر عمل درآمد ممکن نہیں اور اس کے نتیجے میں غیر قانونی تارکینِ وطن زیرِ زمین چلے جائیں گے۔ | اسی بارے میں تارکین وطن کیلئے وبال جان بِل30 April, 2005 | قلم اور کالم امریکہ: اندراج کے لئےقطاریں10.01.2003 | صفحۂ اول ترک وطن کرنے والوں کی مہربانیاں 22 June, 2005 | صفحۂ اول تیرہ سال کی مشقت17 October, 2003 | آپ کی آواز امریکہ کینیڈا معاہدہ ایک چال؟05.02.2003 | صفحۂ اول امارات میں عام معافی کا آخری دن31.05.2003 | صفحۂ اول ترکی: ایک سو تیرہ پاکستانی گرفتار01 October, 2003 | صفحۂ اول تارکین وطن کے بھرے جہاز کی آمد 31 August, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||