ترک وطن کرنے والوں کی مہربانیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تارکین وطن کے بارے میں ایک مفصل عالمی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ میزبان ممالک پر بوجھ کی بجائے ان کی معیشت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ ترک وطن کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنی نوعیت کے اس پہلے جائزے میں بتایا ہے کہ تارکین وطن میزبان ممالک کے فلاحی نظام سے حاصل ہونے والے فوائد سے زیادہ اس ملک میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تجزیے کے مطابق زیادہ تارکین وطن یا تو انتہائی معمولی کام کرتے ہیں یا بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اس لیے وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مقابلے میں نہیں آتے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انیس کروڑ تارکین وطن کی طرف سے گھروں کو بھجوائی جانے والی رقم ان ممالک کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ ترک وطن کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک ڈاکٹر اور انجنیئر جیسے پیشہ ور افراد کھو بیٹھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تارکین وطن امریکہ کا رخ کرتے ہیں جن کی وہاں اس وقت تعداد ساڑھے تین کروڑ ہے۔ اس کے بعد روس اور جرمنی کا نمبر آتا ہے۔ چین، بھارت اور فلیپائن کا شمار ان ممالک میں ہوتا جہاں سے سب سے زیادہ لوگ بہتر معاش کی تلاش میں بیرون ملک جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||