برطانیہ میں پاکستانیوں کے لیے لمحۂ فکریہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی مشکل صورتحال سے دو چار ہیں۔ سن دو ہزار کی مردم شماری کے دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق وہ برطانیہ میں بسنے والی اقلیتوں میں کئی لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ بریڈفورڈ یونیورسٹی کے سینیئر لیکچرار ڈاکٹر یونس صمد نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں ایک لیکچر میں بتایا کہ پاکستانی برطانیہ میں ہندوستانیوں کے بعد دوسری بڑی اقلیت ہیں۔ لیکن پاکستانی مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس عددی برتری کو سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں کر سکے۔ ڈاکٹر صمد کے مطابق ملک میں بیس ایسے سیاسی حلقے ہیں جن میں پانچ ہزار سے زیادہ پاکستانی ووٹر ہیں اور اس صورتحال میں پاکستانی نژاد ایم پی کی تعداد چار سے زیادہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں پچاس سے پچھتر فیصد پاکستانیوں کا تعلق میرپور اور کوٹلی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں پاکستان کے دیہات سے برطانیہ آ کر بسنے والوں کی اگلی نسلیں اب برطانیہ کے بڑے تعلیمی اداروں میں نظر آتی ہیں لیکن ملک کی دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں ان کی ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ ڈاکٹر صمد نے مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ برطانیہ میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ پاکستانی ہیں جو کہ ملک کی کل آبادی کا ایک عشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چونتیس فیصد پاکستانی سولہ سال سے کم عمر ہیں۔ لیکچر میں پیش کیے گئے اعداد دوشمار کے مطابق پاکستانی تعلیم، صحت اور آمدن کے لحاظ سے دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ خاندانی مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ ڈاکٹر صمد نے بتایا کہ ان کمزوریوں کی وجہ سے یہ لوگ معاشرے کو پاکستان یا اسلام کے بارے میں نہیں بتا سکتے اور اپنے بارے میں غلط تاثر کا سدِّ باب نہیں کر پاتے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں پینتالیس سے چوّن سال کے مسلمانوں میں طلاق کی شرح سترہ فیصد ہے۔ ہندوؤں اور سکھوں میں یہی شرح بالترتیب دس اور گیارہ فیصد ہے۔ اسی طرح پاکستانیوں میں سنگل پیرنٹ فیملی کی شرح انیس عشاریہ پچھتر فیصد ہے۔ بنگلہ دیشیوں میں یہ شرح انیس عشاریہ اکہتر اور ہندوستانیوں میں بارہ عشاریہ پچاسی فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ زیادہ تر زبردستی کی شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے معاملات پر لکھتے ہیں جبکہ اصل مسئلہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔ مزید اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ دس فیصد سے کم پاکستانی پیشہ ور ملازمت کرتے ہیں۔ ہندوستانیوں میں یہی شرح سترہ فیصد کے قریب ہے۔ سولہ سے چوبیس سال کے پاکستانیوں میں بیروزگاری کی شرح پچیس فیصد ہے۔ بیروزگاری کی اس سے زیادہ شرح صرف بنگلہ دیشی نوجوانوں میں ہے۔ صحت کے معاملے میں بھی صورتحال حوصلہ افزاء نہیں۔ ڈاکٹر صمد نے بتایا کہ سولہ فیصد سے زیادہ پاکستانی نژاد خواتین اور تقریباً چودہ فیصد مرد ’خراب صحت‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ خراب صحت کے زمرے میں بھی بنگلہ دیشی پہلے نمبر پر اور پاکستان دوسرے نمبر ہیں۔ ڈاکٹر صمد نے بتایا کہ انیس سو چرانوے سے لے کر انیس سو نناوے تک جیل میں پاکستانیوں کی تعداد میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو چرانوے میں جیل میں عشاریہ نو فیصد پاکستانی تھے جو پانچ سال بعد بڑھ کر ایک عشاریہ تین فیصد ہو گئے۔ اس مسائل کا تجویز کرتے ہوئے ڈاکٹر صمد نے کہا برطانیہ کی دوسری اقلیتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور سکھوں کی مثال بھی سامنے رکھی جا سکتی ہے جنہوں نے اپنی عبادت گاہوں کو کثیرالمقاصد مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں کم تنخواہ پر پاکستان سے بلا کر تقرر کیے جانے والے اماموں کی بجائے ایسے لوگوں کو تلاش کرنا چاہیے جو انگریزی بول سکتے ہوں اور یہاں کے نوجوانوں کے مسائل کو سمجھتے ہوں۔ ڈاکٹر صمد نے کہا پاکستانیوں کو اپنے وسائل اکٹھے کر کے تعلیم پر زور دینا پڑے گا۔ شادیوں کے معاملے میں بچوں کی رائے کو اہمیت دینی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری اقلیتیں اس مسئلہ کو مختلف طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مثلاً سکھ اب پنجاب میں رشتہ ڈھونڈنے کی بجائے امریکہ، کینیڈا یا آسٹریلیا کا رخ کرتے ہیں جہاں کے بچوں میں ذہنی ہم آہنگی ہوتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||