کینیڈین خواب: نا مکمل متلاشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب سے کوئی پندرہ برس پہلے خلیجی ممالک کےلیے ہنرمندوں کو بھرتی کرنے والے اصلی اور جعلی ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے اشتہاری شوروغوغا میں کمی آنی شروع ہوئی تو بہتر مستقبل کی تلاش کر نے والے مہم جوؤں نے دنیا کے دیگر خطوں کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ پہلی ترجیح یہ تھی کہ امریکہ جا کر بسا جائے کیوں کہ وہاں روزگار کے مواقع ذیادہ تھے۔ جبکہ دوسری ترجیع کینیڈا قرار پائی جہاں امیگریشن قوانین امریکہ کی نسبت زیادہ نرم تھے۔ اگر امریکہ کی شہریت حاصل کرنے میں پانچ سے آٹھ برس لگ جاتے تھے تو کینیڈا جانے والے تین برس بعد ہی شہریت کےلیے درخواست دے سکتے تھے چنانچہ ایک نئی بھیڑچال شروع ہوئی۔ مشرق وسطی میں جن ڈاکٹروں یا انجینئیروں یا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک افراد کا کنٹریکٹ ختم ہوا ان میں سے زیادہ تر نے پاکستان واپسی کی بجائے کینیڈا یا امریکہ جانے کے بارے میں سوچا۔ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں اچھے خاصے کوالیفائڈ لوگوں نے اپنے اثاثےفروخت کیے اورایک خواب کا پیچھا کر تے ہوئے شمالی امریکہ اترنے لگے۔ گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے بعد سے امریکی قوانین میں سختی کے نتیجے میں کینیڈا خوابوں کی نئی منزل کے طور پر تارکین وطن کے لیے پرکشش ہوتا چلا گیا۔ پچھلے ایک ہفتے سے میں انہی کوالیفائیڈ تارکین وطن کے درمیان گھوم رہا ہوں اور ان کا سب سے بڑامرکز ہے ، ٹورانٹو۔ اندازہ یہ ہو رہا ہے کہ زیادہ تر کو یہاں آ کر معلوم ہوا کہ جن خوابوں کے لیے وہ کینیڈا آ ئے تھے وہ خواب ان کے لیے نا مکمل ہیں ۔ ترکِ وطن کر نےوالےایک ائیروناٹیکل انجینئیر سےملاقات ہوئی وہ سبزی اور دالوں کا سٹور چلارہا تھا۔ متعدد کوالیفائیڈ ڈاکٹرز سے ملا ان میں سے دو سکیورٹی گارڈ کی نوکری کر رہے تھے۔ ایک کا کہنا تھا کہ ٹیکسی چلانے سے زیادہ پیسے مل جاتے ہیں۔ میڈیا کے دو تین لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کی پاکستان میں بڑی عزت تھی لیکن یہاں وہ صرف تارکین وطن کی کمیونٹی کے لیے مفت بٹنے والا اخبار نکالنے ہی کے قابل ہو سکے۔ وہ لوگ جنہیں ان کے شعبےمیں باقاعدہ نوکری ملی ہے ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ زیادہ تر تارکین وطن کو یہاں آ کر معلوم ہوا کہ آسان امیگریشن سے بھی زیادہ بڑا مرحلہ اس شرط کو پورا کرنا ہے کہ کینیڈین ایکسپیرینس ہوناچاہیے۔ لیکن نیا نیا آنے والا ایک تارکِ وطن آخر کینیڈین ایکسپیرینس کہاں سے حاصل کرےگا۔ اس کا جواب حکومت کے پاس بھی نہیں ہے پھر بھی روزانہ تین سےچار ہزار تارکین وطن کینیڈا میں اتر ر ہے ہیں۔ ان تمام تر مسائل کے باوجود سب لوگوں کا ایک بات پر اتفاق ہے کہ کوئی بھی دوبارہ اپنے اپنے ملک واپس جانا نہیں چاہتا چا ہے کچھ بھی ہو جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||