BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 June, 2005, 17:38 GMT 22:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ میں سکھوں کےگوردوارے

تارکین وطن
برطانیہ میں اولیں ہندوستانی تارکین وطن کی آمد
برطانیہ میں ایک بڑی تعداد ان تارکین وطن کی ہے جو مختلف ادوار میں یہاں آ کر آباد ہوتے رہے اور اسے اپنا وطنِ ثانی بنا چکے ہیں اور ان میں خاصی بڑی تعداد مسلمان، ہندو، سکھ اور یہودی کی ہے۔

ان لوگوں نے جہاں اپنی ثقافت اور سماجی روایات کے نقوش یہاں اجاگر کرنے شروع کیے وہاں اپنی مذہبی ضروریات کی خاطر عبادت گاہیں بھی تعمیر کیں۔

مسلمانوں نے مساجد بنائیں تو ہندؤ ں نے مندر، سکھوں نے گوردوارے تعمیر کیے تو یہودیوں نے سنیگاگّ۔

یہ تارکین، برطانیہ کب کب آتے رہے یہ تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ اولیں تارکین وطن کے ڈانڈے پہلی صدی عیسوی میں اُسوقت ملتے ہیں جب رومن فوج برطانیہ میں سڑکوں کا نظام بنانے کے لیے اپنے ہمراہ تارکین وطن کو لے کر آئی۔

سولہویں صدی میں فرانسیسی پروٹسٹنٹ اپنے ہمراہ ریشم کے کیڑے پالنے والوں کے علاوہ گھڑیاں اور بندوقیں بنانے والوں کو لیکر یہاں آئے ۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں آئرش مزدور برطانیہ میں سڑکیں، نہریں اور ریل کی پٹڑیاں بنانے آئے۔

انیسویں صدی میں ہی یہودیوں کی آمد شروع ہوئی۔ اور پھر بیسویں صدی میں جنوبی ایشیا خاص طور پر برصغیر پاک وہند سے تارکین یہاں آنا شروع ہوئے۔

سکھوں کی آمد اٹھارہ سو بیس کے لگ بھگ شروع ہو ئی۔پھر کچھ ہی برسوں بعد یہاں پارلیمان میں لارڈ ترسیم سنگھ اور محکمہ عدل میں جج موٹا سنگھ کے نام زباں زد ِخاص و عام ہوئے۔

برمنگھم میں سمتھ وک کا گوردوارہ
سمتھ وک کا گوردوارہ برطانیہ میں سکھوں کی پہلی باقاعدہ عبادتگاہ ہے

دیگر مذاہب کی طرح سکھوں نے بھی برطانیہ کے مختلف علاقوں میں اپنے گوردوارے بنانے شروع کیے۔

برطانیہ کے مختلف علاقوں میں گوردواروں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اسوقت لندن میں بڑے گوردوارے اکتالیس،شمال مشرقی انگلینڈ میں چھ،جنوب مشرقی انگلینڈ میں چوالیس،جنوب مغربی انگلینڈ میں آٹھ،مشرقی مڈ لینڈ میں پینتیس اور سب سے زیادہ مغربی مڈلینڈ میں تہتر ہیں اور ان تہتر میں سے چونتیس فقط برمنگھم میں ہیں۔

غرب لندن میں ایک علاقہ ’ساؤتھ آل‘ ابتدا سے ہی سکھوں کا گڑھ رہا ہے اور آج بھی یہ سکھوں کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ پاکستان،ہندوستان اور کئی دیگر ممالک سے آنے والے جنوبی ایشیا کے لوگوں کی برطانیہ کی سیر اسوقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک’ساؤتھ آل‘ کی سیر نہ کر لی جائے۔

 برطانیہ میں سکھوں کا سب سے قدیم ترین باقاعدہ گوردوارہ انیس سو دو کے لگ بھگ شیپرڈز بُش کے علاقے میں سنکلیئر روڈ پر بنایا گیا تھا

تاہم تحقیق کے مطابق برطانیہ میں سکھوں کا قدیم ترین باقاعدہ گوردوارہ انیس سو دو کے لگ بھگ لندن کے شمال مغرب میں ایک علاقے شیپرڈز بُش میں سنکلیئر روڈ پر بنایا گیا تھا۔یہ جگہ اس سے قبل مہاراجہ پٹیالہ کی رہائش گاہ تھی۔

اب یہ گوردوارہ 62 کوئنزڈیل روڈ پر واقع ہے۔

برطانیہ میں سکھوں کے دوسرے قدیم ترین گوردوارے کا نام ’گورونانک گوردوارہ سمتھ وِک‘ ہے جو برمنگھم میں واقع ہے اور پورے یورپ میں مخصوص عبادت کے لیے جگہ خرید کر بنایا جانے والا یہ پہلا گوردوارہ تھا ۔

لندن میں زیادہ تر گوردوارے مغربی لندن میں ساؤتھ آل اور ہانسلوکے علاوہ کینٹ کے علاقے میں واقع ہیں۔

ساؤتھ آل کا گوردوارہ
بھارت سے باہر دنیا میں سکھوں کا سب سے بڑا گوردوارہ

گوردواروں کے حوالے سے ساؤتھ آل کے علاقے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں بھارت میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل کے بعد دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنایا گیا ہےجس کا افتتاح مارچ دو ہزار تین میں ہوا تھا۔

مڈل سیکس کاؤنٹی میں ساؤتھ آل کے علاقے کی ہیو لاک روڈ پر بناۓ جانے والے اس گوردوارے کی افتتاحی تقریب میں منتظمین کے مطابق چالیس ہزار کے لگ بھگ مہمانوں کے علاوہ زائرین اور عام لوگوں نے شرکت کی۔

’سری گورو سنگھ سبھا گوردوارہ‘ کے نام سےچھ ہزار مربع میٹر کے رقبے پر بننے والی اس عبادت گاہ کی تعمیر مئی دو ہزار میں شروع ہوئی تھی اور اس پر سترہ ملین پاؤنڈ کی لاگت آئی۔

پہلی منزل پر عبادت گاہ کا وسیع و عریض کمرہ ہےاور دوسری منزل پر دو ہزار افراد کی گنجائش کی حامل گیلری ہے اور اس طرح اس گوردوارے میں مجموعی طور پر یہاں چھ ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

اس عمارت میں لائبریری کے علاوہ سیمینار روم اورکیمونٹی سنٹر اور ایک وسیع کھانے کا کمرہ بھی ہے جس میں زائرین کو تہواروں پر کھانے مہیا کیے جاتے ہیں۔اسکے علاوہ لگ بھگ ایک سو گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے ایک زیر زمین کار پارک بھی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے برطانیہ آنے والے سکھ اس منفرد اور وسیع گوردوارے کو دیکھنے کے لیے ضرور آتے ہیں۔

66سکھ سیاست میں
برطانوی سکھوں کی پہلی سیاسی جماعت
66’شبد‘ سےسکھ ناراض
سکھ برادری ’سردار جی‘ کے لطیفوں پر خفا
66افغان سکھ
سکھوں کے لئے حالات سازگار ہو رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد