| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان سکھ اقتصادی بحالی کی راہ پر
افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں آباد سکھوں نے پھر سے اپنی اقتصادی بنیاد مضبوط بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ انگریز سکھوں کو افغانستان لائے تھے اور یہ لوگ ایک زمانے میں وہاں کی معیشت پر چھائے ہوئے تھے۔ لیکن جب وہاں اسّی کی دہائی میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور اس کے بعد طالبان حکومت کا قیام عمل میں آیا تو سکھوں کی معاشی حالت روبہ زوال ہوگئی۔ افغانستان میں کئی ہزار سکھ ہیں جو کابل، قندھار،جلال آباد اور غزنی میں آباد ہیں۔
کابل میں آباد ہندوں اور سکھ ایک ہی مندر میں جاتے ہیں جو ’کرتے پروان‘ کے علاقے میں ہے۔ یہ مندر شاہ ظاہر شاہ کے دور میں سن پنتالیس میں تعمیر کیا گیا تھا۔ راجندر سنگھ جو اس مندر کے رکھوالے ہیں کہتے ہیں: ’خانہ جنگی کے اثرات ان پر بھی مرتب ہوئے۔ کئی سکھ پاکستان اور بہت سے بھارت ترک وطن کر گئے۔‘ کابل میں صرف سو کے لگ بھگ خاندان رہ گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سن بانوے میں ایودھیا میں بابری مسجد منہدم کی گئی تو کابل میں لوگوں نے ان کے مندر کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد طالبان نے سکھوں اور ہندوؤں کو اپنی شناخت کے لئے پیلا فیتہ لگانے اور ان کی عورتوں کو برقع پہنے کا حکم دیا تو اس سے ان کی مشکلات زیادہ ہوگئیں۔ تاہم طالبان کے بعد کئی سکھ خاندان پھر سے کابل میں آبسے اور وہاں کی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔
پریت سنگھ کو لویا جرگہ میں مدعو کی گیا اور انہوں نے حامد کرزئی کے بطور صدر چناؤ میں حصہ لیا۔ کابل واپس جانے والے سکھوں کے لئے حالات بہت زیادہ سازگار اس لحاظ سے نہیں تھے کہ جب یہ لوگ لوٹے تو ان کی املاک پر مقامی جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا۔ گرچرن سنگھ کا خاندان کابل میں تین نسلوں سے آباد تھا۔ یہ لوگ تجارت سے وابستہ تھے۔ تاہم جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اپنی دکانوں پر مقامی لوگوں کو قابض پایا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہر دوازہ کھٹکھٹایا لیکن آخر میں رشوت دینی پڑی۔ اب انہیں امید ہے کہ ان کی جائیداد واپس مل جائے گی۔ سکھوں کے مرگھٹ پر بھی بعض لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جگہ جلد ہی سکھوں کو واپس دلا دی جائے گی۔ یہ سکھ پشتو بولتے ہیں اور افغانستان کو ہی اپنا وطن مانتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||