سیاست اور قانون: شنکرآچاریہ کی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ریاست تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے جے للیتا نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں ہندو مذہبی رہنما شنکر آچاریہ جیندر سرسوتی اور ان کے نائب کی گرفتاری کا دفاع کیا گیا ہے۔ جےللیتا کا بیان ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت کئی ہندو تنظیموں نے شنکر آچاریہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شنکر آچاریہ کو حال ہی میں سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا گیا ہے۔ لیکن جس دن انہیں رہا کیا گیا اسی دن ان کے نائب وجیندر سرسوتی کی گرفتاری عمل میں آئی۔ وزیر اعلیٰ جےللیتا کا کہنا ہے کہ شنکرآچاریہ کے خلاف قتل کے الزامات کی تفتیش ویسے ہی کی جارہی ہے جیسے کسی عام آدمی کے خلاف کی جاتی ہے۔ جےللیتا نے کہا ہے کہ بی جے پی اور دوسری ہندو تنظیموں کا مرکزی حکومت سے اس مقدمے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ ایک ’سیاست‘ ہے اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی پولیس مقدمے کی تفتیش کررہی ہے اور اس میں عدالت میں مداخلت نہیں کرسکتی ہے۔ جے للیتا کا یہ بھی کہنا تھا کہ میڈیا میں یہ بحث کہ معروف افراد کے ساتھ قید میں ترجیحی سلوک ہونا چاہئے، غلط اور ناقابل قبول ہے۔ وزیراعلیٰ جےللیتا نے کہا کہ وہ اس بات کا تہیہ کی ہوئی ہیں کہ وہ بغیر خوف اور لالچ کے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گی تاکہ قانون اپنی راہ پر گامزن رہے۔
وزیراعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ریاستی حکومت اس ڈھائی ہزار سال پرانے مندر پر کنٹرول اختیار کرنے کی تیاری کررہی ہے جہاں شنکرآچاریہ پجاری تھے۔ وزارت داخلہ نے ان قیاس آرائیوں کو غلط بتایا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جےللیتا کا بیان بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں کی احتجاج کی اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔ شنکر آچاریہ کو گزشتہ نومبر میں اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ مندر کے ایک ملازم کے قتل میں ملوث ہیں۔ گزشتہ ہفتے ان کے نائب پجاری کو بھی اسی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ شنکر آچاریہ کو سپریم کورٹ نے اس شرط پر ضمانت دیا ہے کہ وہ مندر کے آس پاس جانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ریاستی حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ شنکر آچاریہ کے خلاف مقدمہ واپس لے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||