جے للیتا حکومت کی برطرفی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ تامل ناڈو کی جے للیتا حکومت شنکر آچاریہ کے خلاف کاروائی انتقامی جذبے کے تحت کر رہی ہے۔ اس لیے جے للیتا حکومت کو برطرف کیا جانا چاہیے تھا لیکن مرکزی حکومت پورے معاملے میں تماشائی بنی ہوئی ہے۔ چند روز قبل ہی شنکر آچاریہ شنکر رمن قتل معاملے میں سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اب جےے للیتا حکومت کانچی کے مٹھ کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی نے اس کے خلاف ایک ہفتے تک تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس کا آغاز کرتے ہوئےدلی میں سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا کہ شنکر آچاریہ کے خلاف ایک سازش کی جارہی ہے اور عوام اسکا جم کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا ’ایسی باتیں کہی جارہی ہیں کہ کانچی کے مٹھ کو حکومت اپنے قبضے میں کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک گھناونی سازش ہے جس سے پورے سماج کی توہین ہوگی۔ یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک مذہب کے ساتھ حکومت کا سلوک کچھ ہو اور دوسرے کے ساتھ کچھ اور‘ ۔ اس جلسے سے سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی نے بھی خطاب کیا ان کا کہنا تھا۔ ’شنکر آچاریہ کے معا ملے پر وفاقی حکومت کا جو رویہ ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ پورا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے اور مرکزی حکومت بھی اس میں ملوث ہے‘ ۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما وجے کمار ملہوترا مدن لال کھرانہ اور ہرش وردھن نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا۔ زیادہ تر لیڈروں نے حکومت اور سونیا گاندھی پر نکتہ چینی کی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ تین ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی اس طرح کے جلسے جلوسوں سے عوام کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں شنکر آچاریہ کے معاملے پر بی جے پی نے کئی پروگرام کیے ہیں لیکن اسے عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||