BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 November, 2004, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شنکرآچاریہ کی گرفتاری پر ہڑتال

شنکرآچاریہ پر قتل کا الزام ہے
شنکرآچاریہ پر قتل کا الزام ہے
کانچی کے شنکرآچاریہ جئیندر سرسوتی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندوپریشد اور اس کی ہمنوا تنظیمیں آج عام ہڑتال پر ہیں۔ شنکرآچاریہ کو اپنے ایک ساتھی کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

ہڑتال کا ابھی تک کوئی خاص اثر نہیں ہوا ہے۔ ممبئی میں بعض ہندو کارکنوں کو نقص امن کے اندیشے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔گوالیار سے بھی معمولی پتھراؤ کی اطلاعات ہیں۔

دارالحکومت نئی دہلی میں ہندوقوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے کئی رہنما ؤں نے برت (فاقہ) رکھا۔ سابق وزیر اعظم چندرشیکھر بھی اتحاد کے اظہار کے لۓ پارلمینٹ کے نزدیک دھرنے کے مقام پر پہنچے۔

ہڑتال کے دوران ہندو مذہبی رہنماؤں، سرکردہ سنتوں اور سادھوؤں کے ایک وفدنے صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ شنکرآچاریہ کی رہائی کے لۓ مداخلت کريں۔

ادھر کانچی پورم کی ایک عدالت نے شنکرآچاریہ کی پولیس میں تحویل کی مدت میں تو سیع کی ایک درخواست نامنظور کر دی۔ پوچھ گچھ کے لۓ انہیں 19 نومبر کو چار دن کے لۓ پولیس کی تحویل میں دیا گیا تھا جو اب ختم ہو گئی ہے۔انہیں ایک ایسے پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے جس کے سارے کام کاج کی ذمہداری خاتون پولیس افسروں کے ہاتھ میں ہے۔

پولیس تحویل ختم ہوتے ہی شنکرآچاریہ کوجیوڈیشیئل کسٹڈی کے تحت دوبارہ جیل بھیج دیاگیا ہے۔ تامل ناڈو کے ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہندو مذہبی رہنما سے پوچھ گچھ کے وقت ان کا ایک وکیل وہاں کچھ دور پر موجود رہ سکتا ہے لیکن وہ پوچھ گچھ کے عمل میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی مدراس میں ہیں اور وہ شام کو شنکرآچاریہ سے ملاقات کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران تامل ناڈو کی وزیراعلی جیہ للیتا نے کانچی مندر کے مقتول کارکن شنکر رمن کی اہلیہ اور بچوں کے لۓ پانچ لاکھ روپۓ کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

شنکر رمن کے شنکرآچاریہ سے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ ستمبر کے اوائل میں شنکر رمن نے ایک خط لکھ کر شنکرآچاریہ کو متنبہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنی روشنہیں بدلی تو وہ کانچی پورم مٹھ کی مبینہ بدانتظامیوں اور بدعنوانیوں کا پردہ فاش کر دیں گے۔ رمن کو اس خط کے چند دن بعد ہی قتل کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد