BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 November, 2004, 14:26 GMT 19:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شنکراچاریہ جیل میں

شنکر اچاریہ
شنکر اچاریہ ہندوستان کے ایک اہم مذہبی رہنما ہیں
ہندوستان میں ہندوؤں کے ایک مذہبی رہنما شنکر اچاریہ سوامی جیئندر سرسوتی کو قتل کے ایک الزام میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

آچاریہ جیئندر سرسوتی جنوبی ہندوستان کے ایک بہت ہی قدیم کانچی پورم مندر کے روحانی رہنما ہیں۔

انہیں مندر کے ایک ملازم شنکر رامن کےدو ماہ قبل ہونے والے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ آچاریہ جیئندر سرسوتی جنوبی ہندوستان میں روحانی رہنما کی حیثیت سے بہت ہی مقبول شخصیت ہیں اور انکی گرفتاری سے پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

شنکر آچاریہ کو جنوبی شہر حیدرآباد کے مضافاتی قصبے محبوب نگر میں اس وقت گرفتار کیا گياجب وہ پوجا میں مصروف تھے۔ بعد میں انہیں کانچی پورم کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جس نے شنکر آچاریہ کو پندرہ دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ پولیس نے انہیں ویلور سینٹرل جیل میں قید کیا ہے۔

News image
شنکر اچاریہ کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا

ہندو مذہب میں سمتوں کی مناسبت سے جنوب، شمال، مشرق اور مغرب کے چار شنکر آچاریہ ہوتے ہیں۔ ہر شنکر آچاریہ اپنے علاقے کی مناسبت سے ہندوسماج کی مذہبی قیادت کرتا ہے۔ آچاریہ جیئندر سرسوتی کا تعلق جنوبی بھارت سے ہے لیکن پورے ملک میں انکی شہرت سب سے زيادہ ہے اور انکے کئی سیاسی جماعتوں کے بڑے رہنماؤں سےگہرے تعلقات ہیں۔

کانچی پورم کے ایک مندر ’وردھ راجا پیرومل‘ کے ایک ملازم شنکر رمن کو تین ستمبر کو پر اسرار طور پر قتل کر دیا گيا تھا ۔اس سلسلے میں جن پانچ افراد نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا تھا انہوں نے اس معاملے میں آچاریہ جیئندر سرسوتی کا نام لیا ہے۔

شنکر آچاریہ اور مقتول شنکر رمن میں تعلقات اس وقت خراب ہونے شروع ہوۓ جب رمن نےسن 2001 میں مدراس ہائی کورٹ میں ایک درخواست دیکر شنکر آچاریہ کا چین کا دورہ منسوخ کروا دیا تھا۔رمن کا کہنا تھا کہ ہندو مذہب کے مطابق کوئی بھی سنیاسی سمندر پار کر کے دوسرے ملک نہیں جاسکتا۔

اس واقعے کے بعد دونوں میں تلخی بڑھ گئي تھی۔ صورت حال اس وقت ابتر ہوگئی جب شنکر رمن نے اگست میں شنکر آچاریہ کو ایک خط لکھ کر کہا کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہیں بدلی تو وہ کانچی کے مٹھ میں جاری تمام سرگرمیوں کے بارے میں پریس کو بتا دینگے۔

اس خط کی ایک نقل تامل اخبار نکیرن کو بھی بھیجی گئی تھی جس میں آچاریہ سرسوتی کی مبینہ سرگرمیوں کی تفصیلات دی گئی تھیں۔

سخت گير ہندو تنظیم وشوہندو پریشد نے شنکر آچاریہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کل سے دوروزہ ملک گیر ہڑتال کا نعرہ دیا ہے۔

پریشد کے جنرل سیکریٹری پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ شنکر آچاریہ کی گرفتاری سے پوری دنیا کے ہندوؤں کو صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اپنے مذہب اور ثقافت کی علامتوں کی توہین برداشت نہیں کرینگے۔پروین توگڑیا نے مزید کہا کہ کوئي بھی حکومت کسی مسلم مذہبی رہنما کو اس طرح گرفتار کرنے کی جرات نہیں کرسکتی جس طرح اس نے ہندوؤں کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کیا ہے۔

لیکن ریاست تامل ناڈو کی علاقائی جماعت ایم ڈي ایم کے نے آچاریہ سرسوتی کی گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد