شنکر اچاریہ کی ضمانت نا منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مدراس ہائی کورٹ نے ہندو مت کے ممتاز بھارتی رہنما شنکر اچاریہ سوامی جیئندر سرسوتی کو قتل کے ایک الزام میں ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جیئندر سرسوتی جنوبی ہندوستان میں کانچی پورم کے مقام پر واقع ہزاروں سال قدیم مندر کے نگراں اور شنکر اچاریہ کے مرتبے کے مذہبی رہنما ہیں اور وہ قتل کے اس الزام سے انکار کرتے ہیں جو ان پر لگایا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وہ پیر کو یہ فیصلہ کرے گی کہ ذیلی عدالت کے فیصلے پر کی گئی اپیل پر شنکر اچاریہ کو تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔ شنکر اچاریہ کی گرفتاری کے خلاف بھارتی جنتا پارٹی احتجاجی تحریک شروع کر چکی ہے۔ جیئندر سرسوتی کو ان کے ہی مندر کے ایک ملازم شنکر رامن کےدو ماہ قبل ہونے والے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اچاریہ جیئندر سرسوتی جنوبی ہندوستان میں روحانی رہنما کی حیثیت سے بہت ہی مقبول شخصیت ہیں۔ بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی جنہوں نے پارلیمنٹ کی عمارت پر شنکر اچاریہ کی گرفتاری کے خلاف کیے گئے مظاہرے کی قیادت ان کی گرفتاری کو ہندو دھرم پر ایک حملہ قرار دیا ہے۔ شنکر آچاریہ کو جنوبی شہر حیدرآباد کے مضافاتی قصبے محبوب نگر میں اس وقت گرفتار کیا گياجب وہ پوجا میں مصروف تھے۔ بعد میں انہیں کانچی پورم کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جس نے شنکر آچاریہ کو پندرہ دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ پولیس نے انہیں ویلور سینٹرل جیل میں قید کیا ہے۔
ہندو مذہب میں سمتوں کی مناسبت سے جنوب، شمال، مشرق اور مغرب کے چار شنکر اچاریہ ہوتے ہیں۔ ہر شنکر اچاریہ اپنے علاقے کی مناسبت سے ہندوسماج کی مذہبی قیادت کرتا ہے۔ اچاریہ جیئندر سرسوتی کا تعلق جنوبی بھارت سے ہے لیکن پورے ملک میں ان کی شہرت سب سے زيادہ ہے اور ان کے کئی سیاسی جماعتوں کے بڑے رہنماؤں سےگہرے تعلقات ہیں۔ کانچی پورم کے ایک مندر ’وردھ راجا پیرومل‘ کے ایک ملازم شنکر رمن کو تین ستمبر کو پر اسرار طور پر قتل کر دیا گيا تھا ۔اس سلسلے میں جن پانچ افراد نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا تھا انہوں نے اس معاملے میں اچاریہ جیئندر سرسوتی کا نام لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||