بی جے پی: مداخلت کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت کانچی کے شنکر آچاریہ کے معاملے میں مداخلت کرے۔ پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی نے مرکز سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ شنکر آچاریہ کے مقدمے کو تامل ناڈو سے باہر کسی دوسری ریاست میں منتقل کیا جائے۔ شنکر آچاریہ جیندر سرسوتی پر اپنے ایک ساتھی شنکر رمن کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ وہ تقریبا دو مہینے جیل میں رہنے کے بعد ابھی حال ہی میں ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ مسٹر اڈوانی، جیندر سرس وتی کے خلاف پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناگپور میں ہیں ۔ مسٹر اڈوانی نے بتایا کہ وہ اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی و سابق صدر وینکٹ رمن نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملا قات کی ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ شنکرآ چاریہ کے معاملے میں مداخلت کریں۔ مسٹر اڈوانی نے کہا کہ تامل ناڈو میں انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی کیوں کہ بقول ان کے ریاستی حکومت انتقامی جذ بے کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ مسٹر اڈوانی اس سلسلے میں حکمت عملی وضع کرنے کے لیے آر ایس ایس کے سربراہ کے ایس سدرشن کے علاوہ وشو ہندو پریشد کے صدر اشوک سنگھل اور جنرل سکریٹری پروین توگڑیا جیسے سخت گیر رہنماؤں سے بھی صلاح و مشورہ کريں گے۔ بی جے پی نے پہلے ہی ایک تفصیلی احتجاجی پروگرام طے کر رکھا ہے لیکن اس کی تمام کوششوں کے باوجود اسے عوام کی حمایت نہیں مل سکی ہے۔ اس معاملے میں جونیئر شنکرآچاریہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ان رہنماؤں کا شمار ہندوستان کے چند اعلی ترین اور محترم ہندو مذہبی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||