’معاملہ سی بی آئی میں نہیں جائے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے ہندورں کے اعلی مذہبی رہنما شنکراچاریہ جئیندر سرسوتی کی گرفتاری کے معاملے کو سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورور کو منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار نے حقائق کی پوری طرح چھان بین نہیں کی اور درخواست بھی اس معاملے سے متعلقہ افراد کی طرف سے نہیں آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آر ایس لاہوٹی کی قیادت میں پانچ رکنی بینچ نے مفاد عامہ کی ایک عذر داری پر سماعت کے بعد کہا کہ ’درخواست گزار نے عرضی کے ساتھ ایف آئی آر کی ایک نقل تک نہیں پیش کی اس لئے جن نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ مبہم لگتے ہیں اور ایسا نہیں لگتا کہ اس پورے معاملے میں سپریم کورٹ کے غیر معمولی فیصلے کی ضرورت ہے اسی لئے اپیل خارج کی جاتی ہے۔‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ رکن بی پی سنگھل نے سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھاکہ تامل ناڈو کی پولیس نے شنکراچاریہ کے معاملے میں تعصب سے کام لیا ہے اس لئے اس پورے معاملے کو یا تو سی بی آئی کے حوالے کردیاجاۓ یا اس کیس کی سماعت کسی دوسری ریاست میں منتقل کر دینی چاہیئے۔ مسٹر سنگھل نے اپنی عرضی میں یہ بھی کہا تھا کہ شنکراچاریہ کے ساتھ پولس نے جو برتاؤ کیا ہے اس سے خود سپریم کورٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ شنکراچاریہ جئیندر سرسوتی کو اس ماہ کے اوائل میں کانچی پورم میں مندر کے ایک ملازم شنکر رامن کے قتل کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا تب سے وہ جیل میں ہیں۔ اس درمیان کانچی پورم کی ایک ذیلی عدالت نے پوچھ گچھ کے لئے انہیں تین روز کے لئے پولیس کی تحویل میں بھی دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اوراسکی کئی ہندو نظر یاتی تنظیمیں شنکراچاریہ کی گرفتاری کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ شنکراچاریہ کی گرفتاری سے ہندوؤں کی توہین ہوئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بی جے پی ہندوتوا کے نظریات کو شدت سے اپنانے کی دوڑ میں ہے اسے شنکراچاریہ کی گرفتاری کی شکل میں ایک اور اہم موضوع مل گیا ہے۔ بی جی پے کے سینیئر رہنماؤں نے اسکے خلاف احتجاجی دھرنا بھی دیا ہے لیکن عوام کو اسکی طرف وہ راغب نہیں کر سکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||