شنکرآچاریہ:ضمانت فیصلہ بدھ کو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مدراس ہائی کورٹ نے کانچی کے شنکرآچاریہ جیئندر سرسوتی کی ضمانت کی درخواست پر اپنا فیصلہ کل تک کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ جب کہ ایک دیگرعدالت نے شنکرآچاریہ کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت جمعہ تک کے لۓ ملتوی کر دی ہے۔ شنکرآچاریہ پر اپنے ایک ساتھی شنکر رمن کے قتل کا الزام ہے۔ عدالت میں سنوای کے دوران ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب تامل ناڈو حکومت نے کورٹ میں دعوی کیا کہ شنکرآچاریہ نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ حکومت نے ایک بیان حلفی میں کہا تہا شنکرآچاریہ نے اقبال جرم ویڈیوکیمرے کے سامنے کیا ہے۔ لیکن ی ریکارڈنگ کے وقت وہاں کوئی مجسٹریٹ موجود نہیں تھا جس کے سبب عدالت نےویڈیو ٹیپ کو ثبوت ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی معاملے میں ایک اور پہلو اس وقت سامنے آیا جب اوشا نام کی ایک خاتون نے اپنے آپ کو کانچی پورم کے پولیس سپریٹینڈنٹ کے حوالے کر دیا۔ محترمہ اوشا کو شنکرآچاریہ سے بہت قریب سمجھا جاتا ہے- پولیس نےبیان حلفی میں یہ دعوی کیا تھا کہ شنکرآچاریہ اعلی الصبح محترمہ اوشا کو فون کیا کرتے تھے ۔ پولیس کے مطابق کانچی پورم کے مندر سے ایک بڑی رقم انکے نام منتقل کی گئ تھی جو انہوں نے اپنے کھاتے سے نکال لی ہے۔ پولیس کو اندیشہ ہے کہ محترمہ اوشا کا تعلق کسی نہ کسی شکل میں شنکر رمن کے قتل سے ہے۔ لیکن ان تمام الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے محترمہ اوشا نے بتایا کہ وہ کینسر کی مریض ہیں اور علاج کے لیے اکثر شنکرآچاریہ نے انکی مالی مدد کی تھی۔ انہوں نے شنکر رمن کے قتل کے معاملے سے کسی طرح بھی ملوث ہونے سے صاف انکار کیا۔ اس دوران تامل ناڈو کی وزیر اعلی جیہ للیتا نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ شنکرآچاریہ جیئندر سرسوتی کی گرفتاری کے پیچھے سیاسی یا ذاتی محرکات کی کارفرمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکی تمام سیاسی زندگی کا یہ سب سے تکلیف دہ فیصلہ تھا۔لیکن حالات کے آگے وہ یہ قدم اٹھانے کے لیے مجبور تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے سامنے ہر شخص برابر ہے اور جب یہ مقدمہ چلے گا تو حقائق خود بہ خود لوگوں کے سامنے آجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||