’مندر نہیں بناتے، مدد کرتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والی ایک جماعت نے ایشیاء میں سونامی کے متاثرین کی مدد کے لیے بدھا کے مجسمے والا ایک مندر بیچ دیا ہے۔ یہ مندر وینکوور شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کے صدر راہب نے کینیڈا میں ریڈ کراس کو پانچ لاکھ کینیڈین پاؤنڈ کا چیک دیا جو چار لاکھ پانچ ہزار امریکی ڈالرز کے برابر ہے۔ اب مندر کی نگرانی تبت سے تعلق رکھنے والا ایک گروپ کرے گا جس نے بدھا کے مجسمے سمیت اس جگہ کو خریدا ہے۔ یہ مندر پہلے ہی سے مارکیٹ میں برائے فروخت تھا کیونکہ اس کے نگران بڑا مندر تعمیر کرنے کے لیے چندہ اکھٹا کر رہے تھے۔ تاہم صدر راہب نے نئے سال کے موقع پر اپنی جماعت کو بتایا کہ وہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سونامی کے متاثرین کو عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ابتدا میں اس فیصلے کی کچھ مخالفت ہوئی لیکن جوں جوں وقت گزرا، لوگوں نے اس فیصلے کی بھر پور حمایت شروع کردی۔ بدھ مت کے ماننے والوں کے علاوہ مسلمانوں اور دیگر کئی مذہبی تنظیموں نے سونامی فنڈ میں کافی عطیات دیئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||